ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک) دس سالہ سہانہ دنیا کی پہلی لڑکی قرار دے دی گئی ہے جو پراسرار خطرناک بیماری’’ایپی ڈرموڈائی سپلشیا ویروسی فورمز‘‘میں مبتلا ہوئی ہے۔ اس بیماری میں ’’ٹری مین سینڈ روم‘‘بھی کہا جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق شمالی بنگلہ دیش کی دس سالہ سہانہ کو 4سال قبل چہرے اور سر کے مختلف حصوں اور کانوں پر مسے ظاہر ہونا شروع ہوئے
جو کہ بعد ازاں بڑے ہو کر درختوں کی شاخوں جیسے نظر آنے لگ گئے۔سہانہ کے والد کا کہنا ہے کہ 4 ماہ قبل انکی بیٹی میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہوئی جس کے بعد وہ اسے اسپتال لے آئے۔ تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ آیا واقعی سہانہ’’ایپی ڈرموڈائی سپلشیا ویروسی فورمز‘‘نامی بیماری میں مبتلا ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق پہلی مرتبہ کوئی خاتون ” ٹری مین سینڈ روم ” کہلانے والی اس بیماری میں مبتلا ہوئی ہے۔ ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال میں سہانہ نامی بچی کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔دنیا بھر میں آدھے درجن سے بھی کم افراد کو ’ ٹری مین سینڈروم‘ جیسی بیماری لاحق ہے لیکن اس بیماری میں اب تک کوئی خاتون مبتلا نہیں ہوئی تھی۔ اس ہسپتال میں پلاسٹک سرجری اور برن یونٹ کی سربراہ سمانتا لال سین نےسہانا کو اس بیماری کی پہلی خاتون مریضہ قرار دیا ہے۔ سہانہ کے والدجو پیشے کے لحاظ سے مزدور ہیں کا کہنا ہے کہ چار ماہ قبل جب ان کی بیٹی کہ چہرے پر گومڑیاں بننا شروع ہوئی تو وہ زیادہ پریشان نہ ہوئے تھے لیکن جب درخت کی شاخوں جیسی گومڑیاں زیادہ نمایاں ہونا شروع ہوئیں تو وہ اسے ہسپتال لے آئے۔ سہانہ کے والد محمد شاہ جہاں کا کہنا ہے ہم بہت غریب ہیں میری بیوی چار سال قبل انتقال کر چکی ہے میری دعا اور خواہش ہے کہ ڈاکٹر میری بیٹی سہانہ کو اس بیماری سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جائیں۔



















































