اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جیبوں میں دالیں ڈالیں ، کپڑے نہ دھوئیں ، جھاڑو نہ لگائیں اور دروازہ کھلا رکھیں ۔۔ سالِ نو سے جڑے کچھ دلچسپ اور عجیب توہمات کی حقیقت کیا ہے ؟ حیرت انگیز رپورٹ

datetime 1  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) زرد زیریں لباس پہنیں، جھاڑو ہر گز نہ لگائیں، کپڑے نہ دھوئیں، دنیا کے مختلف حصوں میں نئے سال کا استقبال کرنے کے لیے مختلف روایتیں اور کہانیاں آج بھی زندہ ہیں۔دنیا کے مختلف حصوں میں نئے سال سے جڑی دلچسپ روایات کا حقیقت سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو لیکن لوگ آج بھی ان کو اپنائے ہوئے ہیں۔کولمبیا میں ان روایات سے جڑے ملبوسات پر زبردست سیل لگی ہے، زرد رنگ کے زیریں لباس کی دھڑا دھڑ بکری جاری ہے، مانا جاتا ہے کہ سال کے آغاز پر انہیں پہننے سے قسمت بھی روشن ہونے کے امکانات ہیں۔کولمبیا میں ایک اور دلچسپ تصور یہ ہے کہ نئے سال کی آمد کے موقع پر دالیں جیب میں ڈال لی جائیں تو سارا سال جیب بھاری رہے گی۔دنیا کے کچھ حصوں میں یہ بھی عام تصور ہے کہ نئے سال پر دروازہ کھلا رکھنے سے قسمت کی دیوی کو اندر آنے میں دشواری نہیں ہوتی۔کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس موقع پر جھاڑو لگائی تو سمجھو قسمت پر ہی جھاڑو نہ پھر جائے، اسی طرح نئے سال کے موقع پر کپڑوں کی دھلائی بھی نہ کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…