ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

’’چھپڑ پھاڑ کر دولت ایسے ملتی ہے ‘‘

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

پیرس(این این آئی)ایک فرانسیسی شخص کو اپنے رشتے دار کی جانب سے ترکی میں ملنے والے گھر سے 100 کلو سونا ملا ہے جسے فرنیچر میں چھپایا گیا تھا۔اس نامعلوم شخص کو سونے کے چمکتے ٹکڑے فرنیچر، ململ کے کپڑوں اور باتھ روم سمیت گھر کی مختلف جگہوں سے ملے۔نیلامی کرنے والے نکولس فائرفورٹ نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ سونے کے 5000 ٹکڑے تھے، 12 کلو سونے کی دو سلاخیں تھیں اور ایک کلو سونے کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے تھے۔اس خزانے کی مالیت کا اندازہ 30 لاکھ 70 ہزار ڈالر لگایا گیا ہے۔نکولس فائرفورٹ نے کہاکہ سونا اس قدر مہارت سے چھپایا گیا تھا کہ انھیں بالکل دکھائی نہیں دیا۔
سونے کے سکے اور ٹکڑے تب نظر آئے جب نئے مالک نے چیزوں کو اِدھر اْدھر ہلانا جلانا شروع کیا۔ابتدا میں انھیں ایک صندوق ملا جس میں سونے کے سکے چھپائے گئے تھے اور اسے فرنیچر کے اندر رکھا گیا تھا۔انھیں اس کے بعد وسکی کی بوتلوں کا ایک ڈبا ملا جس میں نہایت مہارت سے سونا چھپایا گیا تھا۔سب سے آخر میں اس گھر میں آنے والے نئے مالک نے سونے کی سلاخیں اور ٹکڑے دیکھے۔اس کے بعد انھوں نے اپنے وکیل اور اس سارے خزانے کا حساب لگانے کے لیے ایک شخص کو بلا لیا۔
اس گھر کے پہلے مالک کے سامان سے ملنے والے سرٹیفیکیٹس کے مطابق یہ سونا 1950 سے 1960 کے دوران خریدا گیا تھا۔تاہم مقامی اخبارجس نے سب سے پہلے یہ خبر دی کا کہنا تھا کہ اس خوشی کے ساتھ ساتھ نئے مالک کو صدمہ بھی پہنچ سکتا ہے، اور وہ یوں کہ اگر اس مکان کے اصل مالک نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے تھے تو پھر انھیں اس خزانے پر 45 فیصد وراثتی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…