ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

بھارت :بندروں کی بھی نس بندی شروع

datetime 10  اپریل‬‮  2015 |

شملہ(نیوز ڈیسک ) بھارت کی کئی ریاستوں میں بندروں نے وہاں کے رہنے والوں کے ناک میں دم کردیا ہے جب کہ ان کی بڑھتی ہوئی آبادی نے ریاستی حکومت کو بھی پریشان کردیا ہے جس کے بعد ان کو قابو کرنے کے لے حکومت نے بندروں کی نس بندی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور عام لوگوں کو اس مہم میں شامل کرنے کے لیے اعلان کردیا ہے کہ جو بندر پکڑ کر لائے گا اسے 500 روپے فی بندر انعام بھی دیا جائے گا۔بھارتی ریاست ہماچل پردیش تو کچھ زیادہ ہی بندروں کے رحم وکرم پر ہے اور ان کی شرارتوں نے ایک طرف تو لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا بلکہ جہاں سیرو سیاحت کے کاروبار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے لہذا حکومت نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے تو بندروں کی نسل کشی کی جائے اور نس بندی کے ذریعے ان کی آبادی کو روکا جائے لیکن حکومت کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ ان بندروں کو پکڑنا تھا کیوں کہ یہ بندر بڑے تیز اور چالاک ہیں اور آسانی سے قابو نہیں آتے۔بھارتی حکومت کی جانب سے کافی سوچ بچار کے بعد مہم میں عام لوگوں بھی شامل کرتے ہوئے اعلان کردیا گیا کہ جو بندر پکڑ کر لائے گا اسے فی بندر 500 روپے انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد بندروں سے تنگ لوگوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اب ان کو نہ صرف اس سے بندروں سے نجات ملنے جارہی ہے بلکہ انہیں موقع مل رہا ہے کہ وہ لاکھوں کے مالک بھی بن جائیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ بڑی انہماک سے اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں اور اب تک 336 افراد اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں جس میں سے 31 افراد تو اب تک لاکھوں کما چکے ہیں۔ ہریانہ کے رہنے والے بدری دین تو سب سے آگے نکل گئے ہیں اور اب تک وہ 36 لاکھ سے زائد کی رقم کما چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی وہ اور بھی بندر پکڑنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی اس انکم کو کروڑ تک پہنچا سکیں۔اس مہم سے فائدہ اٹھانے والے ایک شہری دت شرما دوسرے نمبر پر ہیں اور انہوں نے اب تک حکومت سے 28 لاکھ سے زائد رقم ہتھیا لی ہے جب کہ رجیندھر سنگھ 22 لاکھ سے زائد کما کر تیسرے نمبر پر ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان بندروں کو پکڑنے کے بعد ان کی نس بندی کی جاتی ہے اور پھر اسے واپس چھوڑ دیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…