اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

صحت بخش سمجھی جانے والی غذائیں آنتوں کی سوزش بڑھا سکتی ہیں، تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) پالک، بادام اور شکر قندی جیسی غذائیں عام طور پر صحت کے لیے مفید تصور کی جاتی ہیں، تاہم ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ان میں قدرتی طور پر پایا جانے والا ایک مرکب آنتوں کی سوزش کی بیماری میں مبتلا بعض افراد کے لیے مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا اسکول آف میڈیسن کے محققین کی تحقیق کے مطابق پودوں سے حاصل ہونے والی متعدد غذاؤں میں موجود قدرتی مرکب ”آکسیلیٹ” آنتوں کی سوزش سے متاثرہ افراد میں سوزش کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے ”سیلولر اینڈ مالیکیولر گیسٹرونٹیرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی” میں شائع ہوئے۔ محققین نے آنتوں کی سوزش کی بیماری میں مبتلا مریضوں اور صحت مند افراد کے آنتوں کے ٹشوز، خوراک اور فضلے میں آکسیلیٹ کی مقدار کا جائزہ لیا، جبکہ اس کے اثرات جانچنے کے لیے چوہوں اور خلیوں پر بھی تجربات کیے گئے۔محققین کے مطابق صحت مند افراد میں خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والا زیادہ تر آکسیلیٹ فضلے کے ذریعے خارج ہوجاتا ہے، تاہم آنتوں کی سوزش کی بیماری میں مبتلا افراد میں آکسیلیٹ کے اخراج کا نظام مختلف ہوسکتا ہے۔تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ایسے مریضوں کی آنتوں میں مخصوص ٹرانسپورٹر پروٹینز ”ایس ایل سی 26 اے 2” اور ”ایس ایل سی 26 اے 3” کی مقدار نمایاں طور پر کم تھی۔ یہ پروٹینز آنتوں سے آکسیلیٹ کے جذب اور اخراج کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ ان پروٹینز میں کمی السرٹیو کولائٹس اور کروہن ڈیزیز، دونوں اقسام کی آنتوں کی سوزش کی بیماری میں دیکھی گئی۔ مزید یہ کہ آنتوں کے ٹشوز میں سوزش کی شدت بڑھنے کے ساتھ ان ٹرانسپورٹر پروٹینز کا اظہار بھی کم ہوتا گیا۔تحقیق کے مطابق یہ نتائج اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ بعض غذائی اجزا آنتوں کی سوزش کی بیماری میں مبتلا افراد کے جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور مستقبل میں اس مرض کے علاج اور غذائی حکمت عملیوں کے لیے نئی راہیں ہموار کرسکتے ہیں۔تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تحقیق کے نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ آنتوں کی سوزش کی بیماری میں مبتلا ہر شخص پالک، بادام، شکر قندی یا آکسیلیٹ والی دیگر غذاؤں کو اپنی خوراک سے مکمل طور پر نکال دے۔ہر مریض کی غذائی ضروریات اور بیماری کی کیفیت مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے خوراک میں نمایاں تبدیلی کرنے سے قبل ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…