اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

100سے زائد ادویات کی قلت، ہزاروں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں

datetime 15  جولائی  2026 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان میں کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر جان لیوا بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی 100سے زائد ضروری ادویات کی قلت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بڈھانی کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے تقریبا دو سال قبل 105 ضروری ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کی سفارش منظور کرلی تھی، تاہم یہ معاملہ تاحال وفاقی کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے، جس کے باعث ان ادویات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ادویہ ساز کمپنیوں کا موقف ہے کہ خام مال، توانائی، پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث موجودہ قیمتوں پر ان ادویات کی تیاری معاشی طور پر ممکن نہیں رہی، اسی وجہ سے متعدد کمپنیوں نے ان کی پیداوار کم کر دی ہے یا مکمل طور پر بند کر دی ہے۔عبدالصمد بڈھانی نے بتایا کہ قلت کا شکار ادویات میں کینسر کی کیموتھراپی، انسولین، دل کے دورے، شدید درد، بچوں کی بیماریوں، آنکھوں کے امراض، ویکسینز اور دیگر لائف سیونگ ادویات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈریپ کی پرائسنگ کمیٹی تقریبا 100 ضروری ادویات اور 45 نئے کیمیکل پر مبنی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے چکی ہے، مگر یہ فیصلے وفاقی کابینہ میں زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ ان کیسز کو فوری منظور یا مسترد کرے تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ نئی اور موثر کینسر ادویات کی منظوری میں تاخیر کے باعث مریض اسمگل شدہ ادویات خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے جعلی اور غیر معیاری ادویات مارکیٹ میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حال ہی میں کراچی میں کارروائی کے دوران اسمگل شدہ کینسر ادویات بھی برآمد کی گئی تھیں۔عبدالصمد بڈھانی کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مریض ادویات کی اصلیت اور قیمت کی تصدیق کر سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ادویات کی قیمتوں اور منظوری کا معاملہ کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی کے پاس ہے، جس میں متعدد وفاقی وزرا شامل ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جان بچانے والی ادویات کی قلت کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج میسر آسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…