پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

datetime 24  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈٰیسک)پاکستان میں ایچ آئی وی جیسے خطرناک مرض کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے،

اور اب یہ بیماری محدود حلقوں سے نکل کر عام آبادی اور مختلف شہروں تک پہنچ رہی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ملک میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ وائرس اب صرف مخصوص گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ چھوٹے شہروں اور عام شہریوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 79 فیصد مریض لاعلم ہیں، جس کے باعث وائرس خاموشی سے مزید لوگوں تک منتقل ہو رہا ہے، اور اب بچے بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔صحت کے ماہرین نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر محفوظ انجیکشنز کا استعمال اور بغیر مناسب جانچ کے خون کی منتقلی اس مرض کے پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں۔سابق وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز ملک کے نظامِ صحت کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ بار بار سامنے آنے والے پھیلاؤ کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ اقدامات ناکافی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بلڈ بینکس کی نگرانی سخت نہ کی گئی، مکمل اسکریننگ کو یقینی نہ بنایا گیا اور انفیکشن کنٹرول کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال سنگین بحران اختیار کر سکتی ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ خون کی منتقلی سے پہلے مکمل ٹیسٹنگ لازمی قرار دی جائے، اسپتالوں اور کلینکس میں استعمال ہونے والے آلات اور سرنجز کو محفوظ اور معیاری بنایا جائے، اور عوام میں اس مرض کے حوالے سے آگاہی بڑھائی جائے تاکہ بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…