جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے بارے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کا فیصلہ

datetime 9  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے ، شیئر کرنے بارے آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشواروں کے اشتراک کے رولز 2023میں مزید ترامیم کا مجوزہ مسودہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت پبلک سرونٹ کی نئی تعریف شامل کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مجوزہ ترمیمی مسودے کے بارے میں عام عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے آرا بھی طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کو ان ترامیم پر کوئی اعتراض یا تجویز ہو تو وہ سرکاری گزٹ میں اشاعت کے سات دن کے اندر ایف بی آر کو ارسال کی جاسکتی ہیں۔

موصول ہونے والی تمام تجاویز اور اعتراضات کو غور و خوض کے بعد حتمی فیصلے میں شامل کیا جائے گا۔ایف بی آر نے یہ ترامیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کی ذیلی شق (1) کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال میں تیار کی ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر عوامی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مجوزہ ترامیم کے تحت قواعد میں مختلف اصطلاحات میں تبدیلی کی گئی ہے سب سے نمایاں ترمیم یہ ہے کہ قواعد میں جہاں کہیں بھی لفظ سول استعمال ہوا ہے اسے پبلک سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ رول نمبر دو میں پبلک سرونٹ کی نئی تعریف شامل کی گئی ہے، ترمیمی مسودے کے مطابق پبلک سرونٹ سے مراد وفاقی یا کسی صوبائی حکومت، خودمختار ادارے، کارپوریشن یا سرکاری ملکیتی کمپنی میں گریڈ 17یا اس سے بالا درجے کا افسر ہوگا۔اس تعریف میں 1973کے سول سرونٹس ایکٹ کے تحت گورن کیے جانے والے ملازمین بھی شامل ہوں گے تاہم نیب آرڈیننس 1999کی دفعہ 5کی شق(ن)کی ذیلی شق (iv) کے تحت مستثنیٰ افراد اس میں شامل نہیں ہوں گے۔ایف بی آر کے مطابق ان ترامیم کا مقصد قواعد کو مزید جامع، واضح اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کے مطابق بنانا ہے تاکہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کے تبادلے کا نظام شفاف اور موثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…