اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پانی کی بوتلوں خارج ہونے والے کیمیکلز صحت کے لیے خطرناک قرار

datetime 28  جون‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پانی کی پلاسٹک کی بوتلوں سے دن کی روشنی سمیت کمروں میں موجود لائٹس کی روشنی سے زہریلے کیمیکل کا اخراج ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔طبی ویب سائٹ کے مطابق رواں برس کی جانے والی تحقیق میں ماہرین نے پینے کے پانی کی بوتلوں کے 6 اقسام پر تحقیق کی اور انہوں نے ان سے سورج اور لائٹ کی روشنی میں کیمیکلز کے اخراج کو جانچا۔ماہرین نے تحقیق کے دوران تمام اقسام کی بوتلوں کو سورج کے باہر رکھ کر ان سے خارج ہونے والے کیمیکلز کا جائزہ لیا۔ساتھ ہی ماہرین نے بوتلوں کو کمروں، دفاتر اور ہوٹلوں کی روشنی میں خاص مدت تک رکھ کر ان سے خارج ہونے والے کیمیکل کا بھی جائزہ لیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بوتلیں خاص مدت کے بعد سورج یا کمروں میں لگی لائٹس کی روشنی سے کیمیکل خارج کرنے لگتی ہیں جو کہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کس بوتل سے کس طرح کے کیمیکلز کا اخراج ہو رہا ہے، یہ برانڈ کی جانب سے تیار کردہ بوتل میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور پلاسٹک پر منحصر ہے، بعض کمپنیاں خطرناک کیمیکلز اور ناقص پلاسٹک کا استعمال بھی کرتی ہیں۔ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی بوتلوں کو کافی عرصے تک استعمال کرنے اور انہیں بار بار سورج اور کمروں میں لگی لائٹس کے دوران استعمال کرنے سے ان سے مختلف اقسام کے کیمیکل خارج ہو سکتے ہیں جو کہ صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سورج اور کمروں کی روشنی سے بوتلوں سے خارج ہونے والے کیمیکلز کون سے صحت کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں، تاہم بتایا گیا کہ ان سے متعدد طبی پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ پانی کی بوتلیں ہاتھ میں لے کر گھومتے یا سفر کرتے ہیں اور بوتلیں نہ صرف کمروں اور دفاتر کی روشنی بلکہ سورج کی روشنی میں بھی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں اور ایسی بوتلوں کا استعمال کئی ماہ تک کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…