اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں ایڈینو وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ

datetime 19  فروری‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی) شہر قائد میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے سبب ایڈینو وائرس بے قابو ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں موسمیاتی تبدیلی کے سبب گزشتہ 15 سے 20 دنوں میں نزلہ، بخار، کھانسی، چیسٹ انفیکشن کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، سول اسپتال میں یومیہ ہزار سے زائد مریض ان علامات کے ساتھ آرہے ہیں۔اے ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر ہریش کمار نے کہا کہ سول اسپتال کی او پی ڈی میں ہفتے کو اے ڈی وائرس اور سانس کی نالی کے شدید انفیکشن کے 782 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ پیرکو یہ تعداد 1 ہزار 2 سو 75 ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مریض زیادہ تر سردرد، زکام اور بخار اور سردی کے ساتھ آرہے ہیں لیکن ان کا بلڈ پریشر کا ٹیسٹ کیا جائے تو وہ نارمل آتا ہے، یہ بخار تقریبا ایک ہفتہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں اور بزرگ افراد کا خصوصی طور پر خیال رکھا جائے، انہوں نے شہریوں کو تجویز دی کہ شہری ابلا پانی اور ماسک کا استعمال کریں جبکہ غیر معیاری غذا سے پرہیز کریں۔انہوں نے کہا کہ جب مریض ہمارے پاس بخار اور گلے میں درد کی شکایت کی ساتھ آتے ہیں تو ہم ان کو اینٹی پائروٹکس، اینٹی بائیو ٹکس اور کھانسی کی دوا اسپتال سے ہی دیتے ہیں۔ رات اور شام میں موسم ٹھنڈا ہوتا ہے جبکہ دوپہر میں گرم، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے سبب ان کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔واضح رہے کہ اڈینو وائرس عام وائرسوں کا ایک گروپ ہے جو آپ کے ایئر ویز اور پھیپھڑوں، آنکھوں، آنتوں، پیشاب کی نالی اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ بخار، کھانسی، گلے کی سوزش، اسہال اور گلابی آنکھ اسکی علامات ہیں۔ انفیکشن عام طور پر صرف ہلکی علامات کا باعث بنتے ہیں اور چند دنوں میں خود ہی بہتر ہو جاتے ہیں۔

جناح اسپتال کراچی کے جنرل فزیشن ڈاکٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایڈینو نیا وائرس نہیں ہے، اس کی ویکسین بھی موجود ہے، انفلوئنزا اور کورونا کی ویکسین کے ذریعے بھی اس سے بچا ممکن ہے، ذیابیطیس اور دمے کے مرید زیادہ احتیاط کریں۔انہوں نے کہا چونکہ یہ وائرل انفیکشن ہے جو ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، کھبرانے یا خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ،بس شہری ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ برقرار رکھیں اور ماسک پہنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…