پاکستان میں منرل واٹر کی 20برانڈز مضر صحت قرار، تفصیلات سینٹ میں پیش

25  ‬‮نومبر‬‮  2023

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی جانب پاکستان میں منرل واٹر کمپنیوں کی تفصیلات سینٹ میں جمع کرادی گئی۔تفصیلات کے مطابق منرل واٹر کی مجموعی 570کمپنیاں پی ایس کیو سی اے کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔صاف پانی کے حوالے سے اپریل جون میں پی ایس کیو سی اے کی جانب سے پورے پاکستان میں منرل واٹر والے کمپنیوں کی بوتل واٹر کوالٹی کے انسپکشن کا انعقاد کیا۔انسپکشن کے بعد پی ایس کیو سی اے حکام نے بوتل واٹر کوالٹی پر 20برنڈز کو معیاری پانی نہ بنانے پر مضر صحت قرار دیا اور برانڈز کے خلاف ایکشن لیا۔

سینٹ میں جمع شدہ دستاویزات کے مطابق پی ایس کیو سی اے کی جانب سے 169برنڈز ٹیسٹ کیلئے لئے گئے، مجموعی 169برنڈز میں 149کو مکمل محفوظ جبکہ 20برنڈز کو مضر صحت قرار دیا گیا۔دوسری جانب 155برنڈز کو کمیکلی طور پر محفوظ جبکہ 14کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں مائکرو بایولوجیکل طور پر 163برنڈز محفوظ جبکہ 6کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔

مضر صحت برانڈز میں سیور، سپرنگ فریش، اقوا فریش، بیسٹ نیچرل، نیوئے پور لائف، اقوا بیسٹ، اے ایم مغل، الکائن، آب احرم، اقوا آنسو، جھیل، لحارش، زیمل، سیف لائف، پور لائف، اقوا ون، کوسٹہ، ایمپریل، ڈاکٹر واٹر، نوبل کیے نام شامل ہیں۔لاہور اور کراچی میں تین،ساہیوال، ملتان، حیدر آباد، بدین، سکھر میں دو جبکہ لورالائی، لیاری،سیالکوٹ، کوئٹہ میں ایک ایک برنڈز کو مضر صحت قرار دیا گیا۔



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…