اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

جرمن ڈاکٹروں کی موت کو پلٹانے اور مردہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش

datetime 1  مئی‬‮  2023 |

برلن (این این آئی)جرمنی میں قائم ایک کرائیو پریزرویشن اسٹارٹ اپ ”ٹومورو بائیواسٹاسس“ کی ویٹنگ لسٹ طویل ہوتی جارہی ہے، اور اس کی خدمات حاصل کرنے کے خواہش مند سینکڑوں میں پہنچ چکے ہیں۔ کمپنی کے پاس پہلے ہی تقریباً 10 کیسز ہیں جن میں سے کچھ لاشیں لیب میں محفوظ ہیں لیکن آگے کیا ہوگا؟ اصل مسئلہ یہ ہے۔

غیرملکی میڈیا نے بتایاکہ ٹیک ای یو کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی کے شریک بانی ایمل کینڈزیورا یورپ کی پہلی کرائیوجینک کمپنی شروع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں (ان میں سے کچھ پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں)۔جیسے ہی کسی کی موت ہوتی ہے، ٹومورو بائیواسٹاسس فوری طور پر اس شخص کے جسم اور دماغ کو جمود کی حالت میں محفوظ کرنے کا عمل شروع کردے گا۔

پھر مستقبل میں جب سائنس اس قابل ہوجائے گی کہ ممکن ہوسکے تو کمپنی اس شخص کی موت کی اصل وجہ کا علاج کرے گی اور اسے واپس زندہ کردے گی۔کینڈزیورا نے کہاکہ ان کی کمپنی کے پاس ”تقریباً 10 لاشیں“ پہلے ہی تربیتی مقاصد کے لیے محفوظ ہیں اور سینکڑوں مزید ویٹنگ لسٹ (انتظار کی فہرست) میں ہیں۔کمپنی کے عام گاہکوں کی عمر اوسطاً 36 سال ہے اور وہ ٹیک انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔

ان میں سے کچھ لوگ صرف اپنے دماغ کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں ان کے لوگ ایک نیا تھری ڈی پرنٹڈ جسم بنا سکیں گے۔لاشوں کو یوروپئین بائیواسٹاسس فاؤنڈیشن میں طویل مدت تک ذخیرہ کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر رفز لے جایا جاتا ہے۔اس عمل کو قانونی بنانے کیلئے تکنیکی طور پر اسے سائنسی خدمات کیلئے جسم کا عطیہ سمجھا جاتا ہے۔

ان لاشوں کو 196 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور ایک انسولیٹڈ ٹینک کے اندر رکھا جاتا ہے، جس میں مائع نائٹروجن بھری ہوتی ہے۔بلاشبہ، طبی ترقی کا اس مقام تک پہنچنے کا انتظار کرنا کہ موت کو پلٹایا جاسکے اس پورے کرائیو پریزرویشن تصور میں واحد رکاوٹ نہیں ہے۔ایک چھوٹا سا مسئلہ یہ بھی ہے کہ کسی کو یہ نہیں معلوم کہ مردہ کرائیوپریزروڈ انسان کو حقیقت میں کیسے زندہ کیا جائے۔خلیات اور ٹشوز کو محفوظ رکھنے کے لیے دماغ کو منجمد تو کیا جاسکتا ہے، لیکن پہلے سے مردہ دماغ کو باقاعدہ کام اور یادوں کے ساتھ زندہ کرنا ہماری دنیا میں ابھی تک نظریاتی طور پر بھی ممکن نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…