اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

نومولود بچے کے پائوں کا ٹیڑ ھا پن قابل علاج قرار ، ماہرین نے خوشخبری سنا دی

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(یواین پی)طبی ماہر ڈاکٹر اختر بیگ کا کہنا ہے کہ ہر سال 6 ہزار بچے ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں، بروقت تشخیص سے 95 فیصد تک بچوں کا مکمل علاج ممکن ہے۔ میڈیا کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اختر بیگ کا کہنا تھا کہ پیدائشی طور پر بچوں کے پاؤں اکثر ٹیڑھے ہوتے ہیں لیکن ان کا بروقت تشخیص سے مکمل

علاج کرایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسے نئے کیسز کی تعداد ڈھائی لاکھ سالانہ ہے، پیدائشی طور پر بچوں کا ایک پاؤں بھی ٹیڑھا ہوسکتا ہے اور دونوں پاؤں بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس سے ہاتھ متاثر نہیں ہوتا صرف پاؤں ہی ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اختر بیگ نے کہا کہ جب پیدا ہوتا ہے تو پاؤں کے ٹیڑھے ہونے کا پتا چل جاتا ہے اس موقع پر ہی بچوں کا علاج کرالیا جائے تو یہ اس بیماری کا چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومولود کا علاج ہم دس روز تک نہیں کرتے کیونکہ بچوں کی کھال نازک ہوتی ہے اس کے بعد ان کے پیر پر پلاستر لگایا جاتا ہے اور اس کا علاج سول اسپتال کراچی میں بھی کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اختر کا کہنا تھا کہ بغیر آپریشن کے 12 سال کی عمر تک اس کا علاج کیا جاسکتا ہے اور اگر آپریشن کی ضرورت پڑ بھی جائے تو مائنر سے آپریشن ہوتا ہے اور اس کے اخراجات بھی بہت کم ہوتے ہیں، 12 سال کی عمر کے بعد آپریشن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام آرتھوپیڈنگ سرجنز کو یہ علاج کرنا آتا ہے اور وہ باآسانی کرسکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…