پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

روزانہ اتنی مقدار میں اسپرین استعمال کریں اور کورونا سے محفوظ رہیں، تحقیق میں انکشاف

datetime 21  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن ) کم مقدار میں اسپرین کا روزانہ استعمال کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی کم کرسکتا ہے۔ یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا کہ اسپریم ورم کش دوا ہے اور سابقہ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر

مدافعتی نظام کو کچھ وائرل انفیکشن سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران یہ دیکھا گیا کہ کم مقدار میں اسپرین کا استعمال کووڈ 19 کا شکار ہونے سے بچا سکتا ہے یا نہیں، جبکہ بیماری کا دورانیہ کس حد تک کم کرسکتا ہے۔تحقیق میں 75 ملی گرام اسپرین کا روزانہ استعمال کرایا گیا تھا۔محققین نے ایسے 10 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کی ٹریکنگ کی جن میں کورونا وائرس کی پہلی وبا کے دوران کووڈ کی تشخیص ہوئی تھی۔محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ امراض قلب کا خطرہ کم کرنے کے لیے اسپرین کی کم مقدار کا استعمال کرتے ہیں ان میں کووڈ 19 کی تشخیص کا امکان دیگر کے مقابلے میں 29 فیصد تک کم ہوتا ہے۔اسی طرح اسپرین استعمال کرنے والے افراد میں کووڈ 19 کا دورانیہ دیگر کے مقابلے میں 2 سے 3 دن مختصر ہوتا ہے، جس کا انحصار پہلے سے کسی بیماری کے ہونے یا نہ ہونے پر ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اسپرین کی کم مقدار کا کووڈ 19 کے حوالے سے ممکنہ فائدے کا یہ مشاہدہ ابتدائی ہے مگر بہت حوصلہ بخش ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ تصدیق کی جاسکے کہ اسپرین سے یہ فائدہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق کا مقصد کووڈ 19 سے لڑنے والے مدافعتی نظام کو اسپرین سے ملنے والی معاونت کے

اثرات کو سمجھنے کے لیے کی گئی، اب ہم زیادہ افراد اور کنٹرول کلینیکل ٹرائلز پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی ایف ای بی ایس جرنل میں شائع ہوئے۔اس سے قبل اکتوبر 2020 میں امریکا کی یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسین کی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں

زیرعلاج مریض اگر روزانہ کم مقدار میں اسپرین کا استعمال کریں، ان میں اس وبائی مرض سے پیچیدگیوں اور موت کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ اسپرین استعمال کرنے والے کووڈ 19 کے مریضوں کا آئی سی یو تک پہنچنے یا وینٹی لیٹر سپورٹ پر جانے کا امکان دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور اس دوا سے دور

رہنے والوں کے مقابلے میں ان میں موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔طبی جریدے اینستھیسیا اینڈ اینل جیسیا میں شائع تحقیق میں ‘محتاط امید’ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سستی اور آسانی سے دستیاب دوا کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیوں کی روک تھام کرسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم ترین دریافت ہے کہ جس کلینیکل ٹرائل سے تصدیق کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس کی تصدیق ہوگئی، تو اس سے اسپرین پہلی بڑے پیمانے پر دستیاب دوا بن جائے گی جو کووڈ 19 کے مریضوں کی شرح اموات کم کرسکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…