پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اگر خون کے سرخ سیل میں کمی ہو یا پھرصحت ٹھیک نہ رہتی ہو ،جانئے انتہائی آسان سا علا ج

datetime 20  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )گُڑ میں کیروٹین ، نکوٹین ، تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو ، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ گُڑ کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں پرانا گُڑ خشک ہے جب کہ نیا گُڑ کف، دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ جیسے مختلف امراض کے لیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے ۔ گڑ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے۔

قبض دور کرتا اور گیس کی تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔ شیرخوار بچوں کی مائیں جن کا دودھ بچوں کے لیے کافی نہ ہوتا ہو وہ صرف اتنا کریں کہ دودھ کے ساتھ سفید زیرے کا سفوف اور گُڑ صبح و شام استعمال کریں۔اس سے دودھ کی مقدار بڑھ جائے گی۔ حافظہ تیز کرنے اور یادداشت بڑھانے میں گُڑ کے حلوہ کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ لہذا وہ طلبا جنھیں سبق یاد نہ ہوتا ہو انھیں صبح و شام گُڑکا حلوہ استعمال کرنا چاہیےگڑ میں موجود فولاد، انیمیا کو بھی ٹھیک کرتا ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتا ہے۔ جسم کی قوت مدافعت مضبوط کرتا ہے۔ آرتھرائٹس یا گھٹنے کے درد اور سوزش میں مبتلا افراد 5گرام گڑ اور 5گرام ادرک کا پاؤڈر استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف گھٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ سوجن بھی کم ہو گی۔ اسی طرح تھوڑا سا گُڑ اور بھنا ہوا ادرک گرم پانی کے ساتھ سونے سے پہلے استعمال کرنے سے دائمی زکام اور درد سے افاقہ ہوتا ہے۔قبض، بے شمار جسمانی امراض کی جڑ ہے۔ اس سے بواسیر جیسی تکلیف دہ

بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ قدرت نے گُڑ میں قبض کشا صفت بھی رکھی ہے۔ جن لوگوں کو قبض ہو انہیں گُڑ کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ نیم کی پکی نمولی پرانے گُڑ کے ساتھ دن میں تین بار کھانے سے بواسیر جیسے مہلک مرض سے نجات مل جاتی ہے۔پیپل کے پتے 10 گرام، دار چینی

، تیزپات اور کالی مرچ 30، 30 گرام، سونٹھ 35 گرام اور ہرڑ کا سفوف 100 گرام؛ ان تمام اشیاء کو 200 گرام گُڑ کے ساتھ اچھی طرح کوٹ کر پیسنے کے بعد 25،25 گرام کے لڈو بنالیں۔ ایک لڈوصبح اور ایک شام کے وقت گرم پانی کے ساتھ کھانے سے بواسیر سے تو چھٹکارہ ملتا ہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انسانی بدن کو بے شمار دوسری بیماریوں جن میں پیٹ کی گیس ، پیٹ کی گڑگڑاہٹ ، سنگرہنی اور ہاتھ پاؤں کی سوجن اور کھانسی سے بھی نجات مل جاتی ہے۔کھانسی سے نجات کے لیے یہ نسخہ بھی مفید ہے: 10 گرام سرسوں کے خالص تیل میں 10 گرام گُڑ ملا کر صبح و شام ایک ایک چمچہ چاٹ لیں۔ پیپل کے پتے اور جوکھار 4،4 گرام ،

کالی مرچ 5 سے 7 گرام ، اناردانہ 25 گرام کو ملا کر 50 گرام گُڑ میں شامل کرکے سفوف بنالیں۔ صبح و شام گرم پانی کے ساتھ5 گرام سفوف کھانے سے دائمی کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔ اگر کسی مریض کا ملیریا بخار نہ اتر رہا ہو تو کالا زیرہ اور گُڑ کا سفوف ملا کر کھلانے سے فائدہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…