جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اگر خون کے سرخ سیل میں کمی ہو یا پھرصحت ٹھیک نہ رہتی ہو ،جانئے انتہائی آسان سا علا ج

datetime 20  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )گُڑ میں کیروٹین ، نکوٹین ، تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو ، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ گُڑ کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں پرانا گُڑ خشک ہے جب کہ نیا گُڑ کف، دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ جیسے مختلف امراض کے لیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے ۔ گڑ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے۔

قبض دور کرتا اور گیس کی تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔ شیرخوار بچوں کی مائیں جن کا دودھ بچوں کے لیے کافی نہ ہوتا ہو وہ صرف اتنا کریں کہ دودھ کے ساتھ سفید زیرے کا سفوف اور گُڑ صبح و شام استعمال کریں۔اس سے دودھ کی مقدار بڑھ جائے گی۔ حافظہ تیز کرنے اور یادداشت بڑھانے میں گُڑ کے حلوہ کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ لہذا وہ طلبا جنھیں سبق یاد نہ ہوتا ہو انھیں صبح و شام گُڑکا حلوہ استعمال کرنا چاہیےگڑ میں موجود فولاد، انیمیا کو بھی ٹھیک کرتا ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتا ہے۔ جسم کی قوت مدافعت مضبوط کرتا ہے۔ آرتھرائٹس یا گھٹنے کے درد اور سوزش میں مبتلا افراد 5گرام گڑ اور 5گرام ادرک کا پاؤڈر استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف گھٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ سوجن بھی کم ہو گی۔ اسی طرح تھوڑا سا گُڑ اور بھنا ہوا ادرک گرم پانی کے ساتھ سونے سے پہلے استعمال کرنے سے دائمی زکام اور درد سے افاقہ ہوتا ہے۔قبض، بے شمار جسمانی امراض کی جڑ ہے۔ اس سے بواسیر جیسی تکلیف دہ

بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ قدرت نے گُڑ میں قبض کشا صفت بھی رکھی ہے۔ جن لوگوں کو قبض ہو انہیں گُڑ کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ نیم کی پکی نمولی پرانے گُڑ کے ساتھ دن میں تین بار کھانے سے بواسیر جیسے مہلک مرض سے نجات مل جاتی ہے۔پیپل کے پتے 10 گرام، دار چینی

، تیزپات اور کالی مرچ 30، 30 گرام، سونٹھ 35 گرام اور ہرڑ کا سفوف 100 گرام؛ ان تمام اشیاء کو 200 گرام گُڑ کے ساتھ اچھی طرح کوٹ کر پیسنے کے بعد 25،25 گرام کے لڈو بنالیں۔ ایک لڈوصبح اور ایک شام کے وقت گرم پانی کے ساتھ کھانے سے بواسیر سے تو چھٹکارہ ملتا ہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انسانی بدن کو بے شمار دوسری بیماریوں جن میں پیٹ کی گیس ، پیٹ کی گڑگڑاہٹ ، سنگرہنی اور ہاتھ پاؤں کی سوجن اور کھانسی سے بھی نجات مل جاتی ہے۔کھانسی سے نجات کے لیے یہ نسخہ بھی مفید ہے: 10 گرام سرسوں کے خالص تیل میں 10 گرام گُڑ ملا کر صبح و شام ایک ایک چمچہ چاٹ لیں۔ پیپل کے پتے اور جوکھار 4،4 گرام ،

کالی مرچ 5 سے 7 گرام ، اناردانہ 25 گرام کو ملا کر 50 گرام گُڑ میں شامل کرکے سفوف بنالیں۔ صبح و شام گرم پانی کے ساتھ5 گرام سفوف کھانے سے دائمی کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔ اگر کسی مریض کا ملیریا بخار نہ اتر رہا ہو تو کالا زیرہ اور گُڑ کا سفوف ملا کر کھلانے سے فائدہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…