پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کا سب سے موٹا بچہ وزن کم کرنے کے بعد ناقابل شناخت ہو گیا

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

جکارتہ(این این آئی) دنیا کا سب سے موٹا بچہ وزن کم کرنے کے بعد ناقابل شناخت ہو گیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دنیا کا سب سے موٹا بچہ اپنا آدھے سے زیادہ وزم کم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وزن کم ہونے کے بعد 14 سالہ بچہ ناقابل شناخت ہے۔انڈونیشیا کا 14 سالہ آریا پرما اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد اب دوسروں کو بھی وزن کم کرنے اور صحت مند غذا کھانے کی

ترغیب کرتا ہے۔آج سے لگ بھگ 5 سال قبل انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والا ایک بچہ آریا پرمانا اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا جب اسے دنیا کا سب سے موٹا بچہ قرار دیا گیا۔ آریا اتنا موٹا تھا کہ اسے کوئی کپڑے پورے نہیں آتے تھے۔اس وقت بچے کی عمر 9 سال تھی اور اس کا وزن 192 کلوگرام تک ہوچکا تھا مگر اب 5 سال بعد وہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔بچے کے بڑھتے وزن کی خبریں عام ہونے پر انڈونیشیا کے بڑے ڈاکٹرز کی توجہ اس کی طرف ہوئی جنہوں نے اس کے غدود کا نمونہ لینے کے بعد اس کا 5 گھنٹے کا آپریشن کیا تھا جس کے بعد ایک ماہ میں بچے کا وزن 31کلو تک کم ہوا۔نوڈلز، میٹھے مشروبات اور تلی ہوئے پکوان کھانے کی عادت کے نتیجے میں اس بچے کا وزن 192 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا اور وہ اتنا زیادہ موٹا ہو گیا تھا کہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوگیا تھا جس کے بعد والدین کو اسے سکول سے نکال کر گھر میں ہی پڑھانا پڑا۔آریا اپنے موٹاپے کے دوران 5 منٹ بھی مشکل سے چل پاتا تھا اور اس کا سانس پھولنے لگتا تاہم اب وہ دن میں 3کلو میٹر تک پیدل چلتا ہے اور باسکٹ بال بھی کھیلتا ہے۔آپریشن کے بعد آریا کے کھانوں پر پابندی لگا دی گئی تھی، اسے گرل فش اور سبزیوں تک محدود کر دیا گیا تھا۔ آریا کا کہنا تھا کہ اسے یقین نہیں تھا کہ اب اس کا وزن کم ہو سکے گا تاہم اب وہ اپنے آپ کو بہت بہتر محسوس کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…