اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

فیس ماسک کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا امریکی ادارے کی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 14  فروری‬‮  2021 |

نیویارک(این این آئی)فیس ماسک پہننے سے لوگوں کو نئے کورونا وائرس سے تحفظ ملتا ہے مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے۔فیس ماسک پہننے سے جو نمی پیدا ہوتی ہے وہ نظام تنفس کے امراض جیسے کووڈ 19 سے لڑنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے

نیشنل انسٹیٹوٹ آف ڈائیبیٹس اینڈ ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیز کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فیس ماسک پہننے کے بعد جب سانس خارج کی جاتی ہے تو ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق زیادہ نمی والی ہوا کو جب سانس کے ذریعے اندر کھینچا جاتا ہے تو کووڈ 19 سے متاثر ہونے پر بھی لوگوں میں بیماری کی شدت زیادہ نہیں ہوتی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سانس کی نالی میں ہائیڈریشن مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ فیس ماسکس سے جسم کے اندر جانے والی ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سانس کی نالی کو زیادہ ہائیڈریشن میسر آتی ہے، جس کے نتیجے میں مرض کی شدت گھٹ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نمی کی زیادہ سطح فلو کی شدت میں کمی لانے کے لیے ثابت ہوچکی ہے اور ممکنہ طور پر اس کا اطلاق کووڈ 19 پر بھی ہوسکتا ہے۔ہوا میں زیادہ نمی سے کسی وائرس کے پھیپھڑوں تک پھیلا محدود ہوسکتا ہے، کیونکہ ایک ایسا دفاعی میکنزم متحرک ہوتا ہے جو بلغم اور اس میں موجود نقصان دہ اجزا کو خارج کرتا ہے۔نمی کی زیادہ مقدار مدافعتی نظام کو بھی طاقتور کردیتی ہے کیونکہ ایک خصوصی پروٹینز انٹرفیرونز کی پروڈکشن بڑھتی ہے جو وائرسز کے خلاف لڑتا ہے۔اس تحقیق میں 4 اقسام کے ماسکس یعنی این 95 ماسک، 3 تہوں والا ڈسپوزایبل سرجیکل ماسک، 2 تہوں والا کاٹن پولیسٹر ماسک اور ہیوی کاٹن ماسک کی آزمائش کی گئی تھی۔محققین نے دریافت کیا کہ جب کوئی فرد ماسک پہنتا ہے تو اس کے ارگرد کے نمی کی سطح گھٹ جاتی ہے کیونکہ پانی کے بخارات ماسک کے اندر موجود رہتیہ یں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر ماسک درست طریقے سے چہرے پر فٹ ہوں تو چاروں اقسام کے ماسکس پہننے والوں کی سانس کے ذریعے اندر جانے والی ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔تاہم درجہ حرارت سے یہ اثر کم زیادہ ہوسکتا ہے، یعنی کم درجہ حرارت میں تمام ماسکس میں نمی کا اثر بڑھ جاتا ہے۔محققین نے اس کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی کہ کونسا ماسک وائرس سے بچا کے لیے زیادہ مثر ہے۔تاہم اسی تحقیقی ٹیم نے کچھ عرصے پہلے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ کپڑے کا کوئی بھی ماسک منہ سے خارج ہونے والے ہزاروں ذرات کو بلاک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔اس نئی تحقیق میں منہ سے خارج ذرات کا تجزیہ نہیں کیا گیا بلکہ مزید شواہد فراہم کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ فیس ماسک کووڈ 19 کی وبا کے خلاف لڑنے کے لیے ضروری کیوں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…