جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

فیس ماسک کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا امریکی ادارے کی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 14  فروری‬‮  2021 |

نیویارک(این این آئی)فیس ماسک پہننے سے لوگوں کو نئے کورونا وائرس سے تحفظ ملتا ہے مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے۔فیس ماسک پہننے سے جو نمی پیدا ہوتی ہے وہ نظام تنفس کے امراض جیسے کووڈ 19 سے لڑنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے

نیشنل انسٹیٹوٹ آف ڈائیبیٹس اینڈ ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیز کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فیس ماسک پہننے کے بعد جب سانس خارج کی جاتی ہے تو ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق زیادہ نمی والی ہوا کو جب سانس کے ذریعے اندر کھینچا جاتا ہے تو کووڈ 19 سے متاثر ہونے پر بھی لوگوں میں بیماری کی شدت زیادہ نہیں ہوتی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سانس کی نالی میں ہائیڈریشن مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ فیس ماسکس سے جسم کے اندر جانے والی ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سانس کی نالی کو زیادہ ہائیڈریشن میسر آتی ہے، جس کے نتیجے میں مرض کی شدت گھٹ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نمی کی زیادہ سطح فلو کی شدت میں کمی لانے کے لیے ثابت ہوچکی ہے اور ممکنہ طور پر اس کا اطلاق کووڈ 19 پر بھی ہوسکتا ہے۔ہوا میں زیادہ نمی سے کسی وائرس کے پھیپھڑوں تک پھیلا محدود ہوسکتا ہے، کیونکہ ایک ایسا دفاعی میکنزم متحرک ہوتا ہے جو بلغم اور اس میں موجود نقصان دہ اجزا کو خارج کرتا ہے۔نمی کی زیادہ مقدار مدافعتی نظام کو بھی طاقتور کردیتی ہے کیونکہ ایک خصوصی پروٹینز انٹرفیرونز کی پروڈکشن بڑھتی ہے جو وائرسز کے خلاف لڑتا ہے۔اس تحقیق میں 4 اقسام کے ماسکس یعنی این 95 ماسک، 3 تہوں والا ڈسپوزایبل سرجیکل ماسک، 2 تہوں والا کاٹن پولیسٹر ماسک اور ہیوی کاٹن ماسک کی آزمائش کی گئی تھی۔محققین نے دریافت کیا کہ جب کوئی فرد ماسک پہنتا ہے تو اس کے ارگرد کے نمی کی سطح گھٹ جاتی ہے کیونکہ پانی کے بخارات ماسک کے اندر موجود رہتیہ یں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر ماسک درست طریقے سے چہرے پر فٹ ہوں تو چاروں اقسام کے ماسکس پہننے والوں کی سانس کے ذریعے اندر جانے والی ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔تاہم درجہ حرارت سے یہ اثر کم زیادہ ہوسکتا ہے، یعنی کم درجہ حرارت میں تمام ماسکس میں نمی کا اثر بڑھ جاتا ہے۔محققین نے اس کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی کہ کونسا ماسک وائرس سے بچا کے لیے زیادہ مثر ہے۔تاہم اسی تحقیقی ٹیم نے کچھ عرصے پہلے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ کپڑے کا کوئی بھی ماسک منہ سے خارج ہونے والے ہزاروں ذرات کو بلاک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔اس نئی تحقیق میں منہ سے خارج ذرات کا تجزیہ نہیں کیا گیا بلکہ مزید شواہد فراہم کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ فیس ماسک کووڈ 19 کی وبا کے خلاف لڑنے کے لیے ضروری کیوں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…