پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کارگر ثابت نہیں ہوئی، آسٹرا زینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین کا استعمال معطل کرنے کا اعلان

datetime 8  فروری‬‮  2021 |

کیپ ٹائون( آن لائن ) جنوبی افریقا میں آسٹرا زینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین کا استعمال معطل کرنے کا اعلان کرلیا۔ جنوبی افریقا میں فروری کے وسط میں شروع ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرازینیکا کی تیار کردہ کورونا ویکسین کی مہم کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانوی اور سویڈش دوا ساز کمپنیوں کی کورونا

ویکسین کو روکنے کا فیصلہ ملک میں 2 ہزار افراد پر جاری ٹرائل میں نمایاں نتائج نہ دینے پر کیا گیا ہے۔ ویکسین جنوبی افریقا میں سامنے آنے والے کورونا کی نئی قسم کے خلاف بھی بہت زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔اس حوالے سے جنوبی افریقا کے وزیر صحت زولی میخیز کا کہنا تھا کہ یہ ویکسین اْس وقت تک نہیں لگائی جائے گی جب تک سائنس دان اس کی افادیت پر مکمل اعتماد کا اظہار نہیں کرتے، تب تک ہم کسی اور ویکسین کو استعمال کریں گے۔وزیر صحت زولی میخیز کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی آسٹرا زینیکا نے بھی پہلے ہی تسلیم کیا تھا کہ یہ ویکسین جنوبی افریقا کے نئے وائرس کے خلاف محدود تحفظ فراہم کرتی ہے۔خیال رہے کہ جنوبی افریقا میں کورونا وائرس کی نئی شکل B.1.351 سامنے آئی تھی جو پرانی تمام اقسام سے زیادہ متعدی ہے اور معاشرے میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے تاہم اس کے زیادہ ہلاکت خیز ہونے کے شواہد نہیں ملے تھے۔واضح رہے کہ جنوبی افریقا نے آسٹرازینیکا اور ٓ کسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا ویکسین کی 10 لاکھ خوراکیں منگوائی تھیں اور رواں ماہ ویکسی نیشن کا آغاز ہونا تھا تاہم اب فائزر اور جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین استعمال کی جائے گی۔  جنوبی افریقا میں آسٹرا زینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین کا استعمال معطل کرنے کا اعلان کرلیا۔ جنوبی افریقا میں فروری کے وسط میں شروع ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرازینیکا کی تیار کردہ کورونا ویکسین کی مہم کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…