پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کالی کھانسی کا ایسا علاج دریافت کہ اب کم قیمت پر چھٹکارا ممکن ہو گیا ، ماہرین کی تہلکہ خیز تحقیق

datetime 20  جنوری‬‮  2021 |

نیویارک(این این آئی)ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسا طریقہ موجود ہے جس کی مدد سے تپ دق کے علاج کے دورانیے میں کافی کمی کی جا سکتی ہے اور وہ بھی بہت کم قیمت پر۔جرمن ریڈیو کے مطابق عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیاکہ دنیا بھر میں تپ دق سے ہلاک ہونے والے 95 فی صد افراد کا تعلق غریب اور پس ماندہ طبقوں سے ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ

تپ دق کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی اہم دوائیں اس مرض کے جراثیموں پر اس وقت حملہ کرتی ہیں جب ان کی تعداد میں اضافہ ہو تا ہے۔ لیکن ہوتا یوں ہے کہ جراثیموں کو ایک مختصر حصہ غیرموثر شکل اختیار کرکے دوا کے اثرات سے بچ جاتا ہے۔نیویارک کے البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن کے مائیکروبیالوجسٹ ولیم جیکبس نے کہاکہ جراثیموں کے مختصر گروہ دوا کے ہلاکت خیز اثرات سے بچنے کے لیے غیر فعال ہو جاتے ہیں اور خوابیدگی کی حالت میں چلے جاتے ہیں لیکن وہ مرتے نہیں ہیں اور اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ ان میں دوا کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ تپ دق کے علاج میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جب مریض کچھ عرصے یہ سمجھ کر کہ وہ ٹھیک ہو رہا ہے، دوا لینا چھوڑ دیتا ہے تو یہ غیر فعال اور خوابیدہ جراثیم دوبارہ متحرک ہو کر اپنی آبادی میں اضافہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے مرض دوبارہ مریض پر غلبہ پا لیتا ہے۔دوا کا استعمال ترک کرنے سے، بچ جانے والے جراثیم اپنے اندر دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں جس سے علاج میں دشواری پیش آتی ہے اور مرض پر قابو پانے میں کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹی بی کے علاج میں چھ مہینے لگتے ہیں لیکن جراثیموں کے اندر مزاحمت پیدا ہونے کی صورت میں دو سال تک زیادہ سخت دوائیں کھانی پڑتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق چوہوں کو کئی ہفتوں تک ٹی بی کی معمول کی دوا کے ساتھ وٹامن سی کی زیادہ طاقت کی خوراک بھی دی گئی، جس سے ان کے پھیپھڑوں میں بیکٹیریا کی تعداد ان چوہوں کے مقابلے میں دس گنا کم دیکھی گئی جنہیں ٹی بی کی دوا کے ساتھ وٹامن سی نہیں دیا گیا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…