پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

زیادہ نمک کھانے کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

datetime 16  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ویسے تو کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ نمک والی غذا کھانا فالج، امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس وغیرہ کا خطرہ بڑھاتا ہے مگر نمکین پکوان کا شوقین ہونا دماغ کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ انسٹیٹوٹ آف وائیل کارنیل میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک کھانا دماغی تنزلی کا باعث بننے والے

مرض ڈیمینشیا کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق کے دوران چوہوں پر کیے جانے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ نمک والی غذائیں دماغ کے مختلف حصوں میں جانے والے خون کی فراہمی 25 سے 28 فیصد تک کم کردیتی ہیں۔ اس سے دماغ کو وہ حصے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو سیکھنے اور یاداشت سے متعلق ہوتے ہیں اور دوران خون کی کمی کی وجہ زیادہ نمک کھانے سے نائٹرک آکسائیڈ بننے کی مقدار میں کمی آنا ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ چوہوں کو زیادہ نمک والی غذا استعمال کرائی گئی تو بلڈ پریشر نہ بڑھنے کے باوجود ڈیمینشیا کا مرض جڑ پکڑنے لگا اور یہ نتیجہ اس لیے حیران کن ہے کیونکہ انسانوں میں اب تک نمک کے دماغ پر مرتب ہونے والے اثرات پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔ محققین کا کہنا تھا کہ چوہوں میں ایسی غذا کے استعمال سے خون کے سفید خلیات آئی ایل 17 نامی ایک پروٹین زیادہ بنانے لگے جو کہ دفاعی نظام اور ورم کش ردعمل کو کنٹرول جبکہ مختلف خلیات میں نائٹرک آکسائیڈ کی سطح کم کرتے ہیں۔ ؟ تحقیق کے دوران تین ماہ کے اندر چوہے ڈیمینشیا کے شکار ہوگئے تھے، ان کی یاداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ محققین کے مطابق انسانوں پر بھی زیادہ نمک کے استعمال کے ایسے ہی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے دن بھر میں چھ گرام نمک کا استعمال صحت کے لیے بہتر قرار دیا ہے جبکہ اس سے زیادہ کھانا مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج جریدے نیچر نیورو سائنسز میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…