جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

میڈیکل کی دنیا میں انقلاب بلڈ شوگر کے مطابق ڈھل جانیوالی خودکارانسولین کی تیاری میں پیشرفت

datetime 7  دسمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوپن ہیگن(این این آئی)ذیابیطس ٹائپ ون کے کروڑوں مریضوں کو روانہ کی بنیاد پر انسولین کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھ سکیں۔مگر یہ تعین کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے کہ انہں انسولین کی کتنی مقدار کی ضرورت ہے، کیونکہ درست مقدار استعمال نہ کرنے پر نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔مگر اچھی خبر یہ ہے کہ اب ایاسا کرنا بہت آسان اور محفوظ ہوگا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی اور بائیوتیک کمپنی گیوبرا نے ایک نیا انسولین مالیکیول تیار کیا جو مستقبل قریب میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے درست مقدار میں انسولین کی مقدار کو یقینی بنائے گا۔کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر کیونڈ جے جینسن نے بتایا کہ ہم نے اس قسم کی انسولین کی جانب پہلا قدم بڑھایا ہے جو جسم کے اندر خودکار طور پر بلڈ شوگر لیول کے مطابق مطابقت پیدا کرلیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آسکے گی۔محققین نے انسولین کی یہ قسم ایک بلٹ ان مالیکیول کے ذریعے تیار کی ہے جو محسوس کرسکتی ہے کہ جسم میں بلڈ شوگر کی مقدار کتنی ہے۔پھر جسم میں بلڈ شوگر لیول بڑھنے پر یہ مالیکیول تیزی سے متحرک ہوکر مزید انسولین خارج کرتا ہے، اگر بلڈ شوگر کی سطح گرتی ہے تو انسولین کی کم مقدار کا اخراج ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ مالیکیول مسلسل انسولین کی کم مقدار کو خارج کرتا ہے، مگر یہ مقدار ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کے للیے محفوظ اور آسان علاج فراہم کیا جاسکے گا، آج اس بیماری کے شکار افراد کو دن بھر میں کئی بار انسولین کو انجیکٹ کرنا پڑتا ہے اور مسلسل بلڈ شوگر لیول پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ان کے بقول اس نئی قسم کی بدولت ایسا نہیں ہوسکے گا اور جب کوی فرد نئے انسولین مالیکیول کو

انجیکٹ کرے گا تو اسے دن بھر میں دوبارہ لگانے کی کم ضرورت ہوگی۔اگرچہ خودکار انسولین ایک اہم پیشرفت ہے مگر یہ کب تک عام استعمال کے لیے دستیاب ہوگی، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔محققین کے مطابق ہم نے انسولین مالیکیول کو چوہوں پر آزمایا اور یہ موثر ثابت ہوا، اب اگلے قدم کے طور پر ایسے مالیکیول تیار کیا جائے گا جو فوری اور درست طریقے سے کام کرسکے اور

پھر انسانوں پر اس کی آزمائش ہوگی، جس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو ایک مشکل کا سامنا ہوتا ہے کہ انسولین ہمیشہ ایک ہی طریقے سے کام کرتی ہے، یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے چاہے مریض کو اس کی ضرورت نہ بھی ہو، ہم اس مسئلے پر اپنے نئے مالیکیول سے قابو پانے کے خواہشمند ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…