منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ جلدی بوڑھا ہونے سے بچناچاہتے ہیں تو یہ غذا استعمال کریں

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کینسر کو شکست دی جا سکتی ہے۔ امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات سرطان کے سبب ہوتی ہیں تاہم بہتر طرز زندگی اختیار کرنے سے کینسر کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ غیر متوازن خوراک کو انسانی صحت میں بے شمار خرابیوں کا سبب قرار دینے کے علاوہ اِسے عالمی سطح پ

ر ہیلتھ سیکٹر پر ایک بڑا بوجھ بھی قرار دیا گیا ہے۔ اِس ریسرچ کو ”فیوچر آف فوڈ“ کا نام دیا گیا ہے اور یہ آکسفورڈ مارٹن پروگرام کے تحت مکمل کی گئی۔ اس ریسرچ کے بارے میں یہ رپورٹ مارکو اسپرنگ مان نے مرتب کی ہے۔ اسپرنگ مان کے مطابق کرہ ارض پر خوراک تیار کرنے کا نظام ماحول کو نقصان دینے والی سبز مکانی گیسوں کے کل حجم کا ایک چوتھائی پیدا کرتی ہیں۔ مارکو اسپرنگ مان کا کہنا ہے کہ جو انسانی خوراک کھائی جاتی ہے وہی عمومی صحت اور گلوبل زمینی ماحول کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے استعمال میں لائی گئی خوراک کے چار ماڈل بنائے ہیں۔ پہلے ماڈل میں خوراک کھانے والے وہ شامل ہیں جو خوراک کے بنیادی رہنما اصول استعمال کرتے ہوئے پھل اور سبزی کے ساتھ ساتھ ایک خاص مقدار میں سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے ماڈل میں وہ لوگ شامل ہیں جو بھرپور کیلوریز والی خوراک تو ضرور کھاتے ہیں لیکن شکر پر بھرپور کنٹرول کیے ہوئے ہیں۔ تیسرے میں وہ شامل ہیں جو کلی طور پر سبزی خور ہیں لیکن مچھلی اور انڈے کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ چوتھے ماڈل میں وہ شامل ہیں جو دودھ، دہی اور مکھن کے علاوہ انڈے اور ہر قسم کے گوشت مچھلی سمیت سے اجتناب کرتے ہیں۔ چو تھے ماڈل کو ویگان فوڈ کہا جاتا ہے۔ کم گوشت کھانے اور پھل و سبزیوں کے زیادہ استعمال سے قبل از موت سے بچا جا سکتا ہے امریکن نیشنل اکیڈمی برائے سائنسز کی ریسرچ رپورٹ میں تلقین کی گئی ہے کہ

خوراک کے لیے مقرر کیے گئے عالمی رہنما اصولوں پر اگر پوری طرح عمل ہو جائے تو سن 2050 تک 51 لاکھ انسان موت کے منہ میں قبل از وقت جانے سے بچ سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہر قسم کے گوشت سے اجتناب کرنے والے اور پھل سبزیاں استعمال کرنے والے 81 لاکھ انسان بھی زیادہ صحت مندانہ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں اگر 29 فیصد لوگ زندگی بسر کرنا شروع کر دیں تو سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں 63 فیصد اور ویگان خوراک مقبول ہونے پر 70 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں کو 700 ارب سے ایک ہزار ارب ڈالر کی بچت یقینی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…