پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ایک صدی پرانی ویکسین ممکنہ طور پر کورونا سے بچانے کیلئے مفید قرار

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)رواں سال مارچ میں طبی ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ایک صدی سے استعمال ہونے والی ایک ویکسین نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔اب اس حوالے سے نئے شواہد سامنے آئے ہیں جن میں دریافت کیا گیا کہ تپ دق کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی ویکسین کووڈ 19 کا شکار ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ

اس بیماری میں مبتلا ہونے پر اس کی شدت میں کمی لاسکتی ہے۔بیسیلس کالمیٹی گیورن (بی سی جی) نامی ویکسین کو ٹی بی سے بچائو کے لیے سو سال سے دنیا کے مختلف حصوں میں استعمال کیا جارہا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ دیگر مقاصد جیسے مثانے کے کینسر کی ابتدا میں عام امیون تھراپی کے طور پر بھی اسے آزمایا جارہا ہے۔امریکا کے سیڈرز سینائی میڈیکل سینٹر کے ماہرین نے اس ویکسین کو 6 ہزار سے زائد طبی ورکرز پر آزمایا۔طبی جریدے دی جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن میں شائع تحقیق میں شامل ان رضاکاروں سے ان کے طبی اور ویکسینیشن تاریخ کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ 30 فیصد ایسے افراد جو ماضی میں کسی وقت بی سی بی ویکسین کو استعمال کرچکے تھے، میں کورونا وائرس کی اینٹی باڈیز مثبت آنے کا امکان نمایاں حد تک کم ہوا۔آسان الفاظ میں ان افراد کا کووڈ 19 کا شکار ہونا یا اس سے متعلق علامات کا امکان کم ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ بی سی جی ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں یا تو بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے یا ان کا مدافعتی ردعمل اس وائرس کے خلاف زیادہ موثر انداز سے کام کرتا ہے، جس سے بیماری کی شدت بڑھتی نہیں۔تحقیق کے نتائج میں واضح کیا گیا کہ بی سی جی ویکسین کسی کووڈ 19 ویکسین سے زیادہ موثر نہیں ہوسکتی، مگر یہ ویکسین سے پہلے سے منظور شدہ اور آسانی سے دستیاب ہے،

سے ایک منظور شدہ علاج کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔محققین کے خیال میں یہ ویکسین لوگوں کو کسی حد تک تحفظ فراہم کرسکے گی اور اس عرصے میں زیادہ موثر اور محفوظ کووڈ ویکسین بڑے پیمانے پر دستیاب ہوسکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…