بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کورونا وبا کی نئی لہر میں تیزی ،جان بچانے والی 17سے زائد ادویات مارکیٹ سے غائب، ہزاروں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

راولپنڈی (آن لائن)ملک بھر میں کورونا وبا کی نئی لہر میں تیزی کے ساتھ ہی کورونا سے بچائو میں اور قوت مدافعت میں اضافے میں استعمال ہونے والی ادویات سمیت ملٹی نیشنل ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے راولپنڈی میں جان بچانے والی ادویات 17سے زائد ادویات مارکیٹ سے غائب ہو گئیں ادویات کی شدید قلت پیدا ہونے سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہزاروں مریضوں کی

زندگیاں دائو پر لگ گئیں ذرائع کے مطابق دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے فوری ضرورت کے تحت استعمال ہونے والی جی ایس کمپنی کی گولی’’ انجیسڈ‘‘ نایاب ہوگئی جبکہ پیٹ میں گیس کی صورت میں استعمال ہونیوالی وائتھ کمپنی کی ’’میوکین ‘‘اور’’گیوسکان‘‘ بھی مارکیٹ سے غائب انڈس فارما کمپنی کی گلے کے درد اور انفیکشن میں استعمال ہونے والی گولی ’’ارتھروسین ‘‘مارکیٹ میں دستیاب نہیں اسی طرح نزلہ زکام کے لئے ایبٹ کمپنی کی موثر گولی’’ ایر ینک‘‘ بھی مکمل طور پرغائب ہو گئی درد اور بخار کے لئے جی ایس کے کا’’ پیناڈول سیرپ‘‘ مارکیٹ میں نایاب ہونے کے ساتھ دمہ اورسانس کی بیماری میں استعمال ہونیوالی جی ایس کے کی’’ بیٹنی سول‘‘ گولی بھی عدم دستیابی کا شکار ہے اسی طرح پیشاب کی رکاوٹ دور کر نے کے لئے ’’سٹرالکا سیرپ‘‘ اورکھانسی کے لئے ایٹکو کمپنی کا’’ کمبینول سیرپ‘‘ بھی غائب ہو گیا ہے جگر کی بیماری کے لئے ’’ہیپا مرزٹیبلٹ‘‘ اورجی ایس کے کمپنی کی اینٹی الر جی ٹیبلٹ ’’پیری ٹون‘‘ دستیاب نہیں خواتین کی ڈلیوری میں بلڈ پریشر کو کنٹرول کر نے کے لئے لگایا جانے والا’’ لپیٹا لال ‘‘انجکشن موجود نہیں جی ایس کے کمپنی کی’’ سپٹران ڈی ایس ‘‘ٹیبلٹ ،ہڈیوں کی بیماری میں استعمال ہونے والی ہاورڈ کمپنی کی’’ سائیٹو ٹر یکسٹ‘‘ گولی، سرد موسم کے باوجود بند ناک کھولنے کے لئے ’’رھینوسون نیزل ڈراپس‘‘ کی قلت ایبٹ کمپنی کی ملٹی وٹا من ’’سربیکس زیڈ ٹیبلٹ‘‘ اوردانوں وسکن کے امراض میں استعمال ہونیوالا میڈی کیٹڈ سوپ ’’ایکنی ایڈ‘‘بھی مارکیٹ میںدستیاب نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…