جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

مسوں سے چھٹکارے کاآسان طریقہ

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )مسے کسی کو اچھے نہیں لگتے، چہرے، گردن یا جسم کے ان حصوں پر جو کھلے رہتے ہیں، مسے نکل آنا پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اپنی خوبصورتی کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں، اس لئے مسے ان کے لئے زیادہ پریشان کن ثابت ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ تکلیف دہ نہیں ہوتے لیکن چہرے یا گردن پر ہوں تو بدنما لگتے ہیں۔زمانہ قدیم سے مسے

ہٹانے یا ختم کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے جاتے رہے ہیں، ریزر یا بلیڈ کے ساتھ کاٹنے پر یہ دوبارہ اگ آتے ہیں، پرانے زمانے میں گدھے یا گھوڑے کی دم کا بال لے کر اسی مسے کے گرد کس کر باندھ دیا جاتا تھا اور چند دن میں یہ بال مسے کو اس طرح سے کاٹ ڈالتا تھا کہ درد کا احساس ہوتا تھا نہ خون نکلتا تھا۔اب مگر ایک ایسا طریقہ بھی عام ہو رہا ہے جس سے بغیر کسی درد یا تکلیف کے ان سے نجات پائی جا سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے آپ کو چاہیے ایپل سیڈر یعنی سیب کا سرکہ اور تھوڑی سی روئی۔روئی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لیں جو سائز میں مسے سے بڑا نہ ہو، اسے سرکے میں بھگوئیں اور پھر ہلکا سا نچوڑ کر اسے مسے پر رکھیں، اور اسے وہاں پر ٹکائے رکھنے کے لئے پٹی باندھ دیں یا ٹیپ چپکا دیں۔رات کو یہ عمل کر کے سو جائیں اور صبح اٹھ کر اسے صابن سے دھو لیں۔ہر روز یہی عمل تین چار روز تک دہرائیں، پہلے مسے کی رنگت بدلے گی، بھورے سے سیاہ ہو گی اور پھر وہ سوکھنے لگے گا، تین چار روز بعد وہ خود ہی جھڑ کر علیحدہ ہو جائے گا۔اس عمل سے اول تو جلد پر کوئی نشانہ نہیں آئے گا تاہم اگر ایسا ہو بھی تو ایلوویرا کا جوس چند دن مسلسل لگاتے رہیں، داغ خود ہی ختم ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…