منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسوں سے چھٹکارے کاآسان طریقہ

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )مسے کسی کو اچھے نہیں لگتے، چہرے، گردن یا جسم کے ان حصوں پر جو کھلے رہتے ہیں، مسے نکل آنا پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اپنی خوبصورتی کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں، اس لئے مسے ان کے لئے زیادہ پریشان کن ثابت ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ تکلیف دہ نہیں ہوتے لیکن چہرے یا گردن پر ہوں تو بدنما لگتے ہیں۔زمانہ قدیم سے مسے

ہٹانے یا ختم کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے جاتے رہے ہیں، ریزر یا بلیڈ کے ساتھ کاٹنے پر یہ دوبارہ اگ آتے ہیں، پرانے زمانے میں گدھے یا گھوڑے کی دم کا بال لے کر اسی مسے کے گرد کس کر باندھ دیا جاتا تھا اور چند دن میں یہ بال مسے کو اس طرح سے کاٹ ڈالتا تھا کہ درد کا احساس ہوتا تھا نہ خون نکلتا تھا۔اب مگر ایک ایسا طریقہ بھی عام ہو رہا ہے جس سے بغیر کسی درد یا تکلیف کے ان سے نجات پائی جا سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے آپ کو چاہیے ایپل سیڈر یعنی سیب کا سرکہ اور تھوڑی سی روئی۔روئی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لیں جو سائز میں مسے سے بڑا نہ ہو، اسے سرکے میں بھگوئیں اور پھر ہلکا سا نچوڑ کر اسے مسے پر رکھیں، اور اسے وہاں پر ٹکائے رکھنے کے لئے پٹی باندھ دیں یا ٹیپ چپکا دیں۔رات کو یہ عمل کر کے سو جائیں اور صبح اٹھ کر اسے صابن سے دھو لیں۔ہر روز یہی عمل تین چار روز تک دہرائیں، پہلے مسے کی رنگت بدلے گی، بھورے سے سیاہ ہو گی اور پھر وہ سوکھنے لگے گا، تین چار روز بعد وہ خود ہی جھڑ کر علیحدہ ہو جائے گا۔اس عمل سے اول تو جلد پر کوئی نشانہ نہیں آئے گا تاہم اگر ایسا ہو بھی تو ایلوویرا کا جوس چند دن مسلسل لگاتے رہیں، داغ خود ہی ختم ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…