منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شوگراور بلڈ پریشر کے مریضوں کو دی جانیوالی کونسی گولی کورونا وائرس کے مریضوں کی موت کا خطرہ کم کرنے میں مدد گار نکلی؟امریکہ میں  ہونیوالی طبی تحقیق میں حیرت انگیز نتائج سامنے آگئے

datetime 25  جون‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی سستی دوا گلوکوفیج یا کچھ ممالک میں میٹفورمن بھی کہا جاتا ہے کورونا وائرس کے بدترین اثرات کی روک تھام میں بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

مینیسوٹا یونیورسٹی کی پری پرنٹ تحقیق (ایسی تحقیق جو کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی ہو) میں دریافت کیا گیا کہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب یہ دوا کورونا وائرس کے اثرات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔یہ کورونا وائرس کے خطرے کے عناصر پر ہونے والی چند بڑی مشاہداتی اسٹڈیز میں سے ایک تحقیق ہے جس میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپا اور ذیابیطس کووڈ 19 سے اموات کا باعث بننے والے 2 بڑے خطرات ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دریافت کیا گیا کہ گلوکوفیج سے کورونا وائرس سے موت کا خطرہ 21 سے 24 فیصد تک ان مریضوں میں کم کیا جاسکتا ہے جو پہلے ہی اس دوا کو ذیابیطس اور بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔محققین نے بتایا کہ لوگوں کو اس دوا کو وائرس کا علاج نہیں سمجھنا چاہیے، مگر نتائج سے کووڈ 19 جیسے وبائی امراض کے لیے ویکسین ہٹ کر قابو پانے کے نئے راستے کھل سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دوا ممکنہ طور پر کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ ورم کو کم کرنے کے ساتھ جسمانی مدافعتی نظام کے ردعمل کو کم کرتی ہے۔کورونا وائرس کے کچھ کیسز میں بہت زیادہ متحرک مدافعتی نظام موت کی وجہ بن جاتا ہے۔ماضی میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں عندیہ ملا تھا کہ گلوکوفیج کا استعمال طویل المعیاد بنیادوں پر جسمانی وزن میں کمی میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

اپریل 2019 میں جریدے جرنل اینالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ اس دوا سے طویل المعیاد بنیادوں پر لوگوں کو جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملی۔یہ دوا عموماً ہائی بلڈ شوگر کے شکار افراد اور ذیابیطس کے مریضوں کو استعمال کرائی جاتی ہے، مگر ا کے ساتھ مریضوں کو جسمانی وزن میں کمی میں بھی ممکنہ مدد مل سکتی ہے۔اس نئی تحقیق میں 6 ہزار سے زائد ایسے افراد کو دیکھا گیا جو ذیابیطس یا موٹاپے کے شکار رھے اور کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں زیرعلاج رہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ ان خواتین میں اس وبائی بیماری سے اموات کم ہوئیں جن کو ذیابیطس کی دوا تجویز کی گئی تھی۔خطرے کے دیگر عناصر کو مدنظر رکھ اندازہ لگایا گیا کہ اس دوا کے استعمال سے کووڈ 19 سے موت کا خطرہ 21 سے 24 فیصد تک کم ہوسکتا ہے، مگر یہ تعلق مردوں میں دیکھنے میں نہیں آیا۔محققین کا کہنا تھا کہ ہم پہلے سے جانتے تھے کہ یہ دوا مردوں اور خواتین پر مختلف انداز سے اثرات مرتب کرتی ہے۔

ذیابیطس کی روک تھام کی ایک تحقیق میں ہم نے دریافت کیا تھا کہ اس سے سی آر پی (ورم کا باعث بننے والا ایک پروٹین) کی سطح مردوں کے مقابلے میں خواتین میں دوگنا زیادہ کم ہوتی ہے۔اس دوا سے کووڈ 19 کے مریضوں میں ورم کا باعث بننے والے پروٹین ٹی این ایف ایلفا کی سطح بھی کم ہوتی ہے، جو حالت بدتر بناتا ہے، خصوصاً مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس کی سطح زیادہ کم ہوتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ دوا محفوظ، سستی اور آسانی سے دستیاب ہے اور اگر بڑے ٹرائلز میں اس کی افادیت ثابت ہوئی تو یہ کوود 19 کا ایک حقیقی علاج ثابت ہوسکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…