منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے علاج میں اہم پیشرفت ،یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نےبڑی کامیابی حاصل کرلی

datetime 3  جون‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)پاکستان کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز(یو ایچ ایس) کورونا وائرس کے علاج کیلئے مصنوعی اینٹی باڈیز تیار کرلیں جس کو کورونا وائرس کے علاج میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وائس چانسلریونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق ہیومن ہائیبرڈروما ٹیکنیک کے ذریعے مصنوعی اینٹی باڈیز بنائی جا رہی ہیں، جس کے بعد کورونا کے علاج میں پلازما کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ یو ایچ ایس نے یونیورسٹی کالج لندن کے اشتراک سے مصنوعی اینٹی باڈیز تیار کی ہیں۔ یو ایچ ایس یہ کارنامہ انجام دینے والی ایشیا کی پہلی یونیورسٹی ہے۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے گزشتہ ماہ اینٹی باڈیز کی تیاری پر کام شروع کیا تھا اور مصنوعی اینٹی باڈیز کورونا وائرس کو انسانی پھپھڑوں میں داخل ہونے سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پہلے ہی کورونا کے مریضوں کا بلڈ پلازما سے علاج شروع کرچکی ہے اور کورونا وائرس کے لیے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ شروع کر دیا ہے۔ وائس چانسلرنے بتایا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بہت جلد کورونا کے علاج کے لیے اسٹیم سیل تھراپی پر بھی کام شروع کرے گی۔خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کے علاج کے حوالے سے اینٹی باڈیز ٹیسٹ کے فائدہ مند ہونے کے حوالے سے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ ان ٹیسٹوں پر بہت زیادہ رقم خرچ نہ کی جائے۔ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر آپ کو یہ وائرس لاحق ہوا تھا تو آپ میں اس کی مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابتدائی شواہد سے پتا چلا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے اندر وائرس لگنے کے بعد اینٹی باڈیز نہیں بن پائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…