منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پمز کا ملازمین میں کورونا وائرس کیسے اور کیوں پھیلا ؟ بڑا فیصلہ کر لیا گیا 

datetime 1  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی اتنظامیہ نے 91 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد بڑی تعداد میں متاثر ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیق کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پمز کو 12 وینٹی لیٹرز موصول ہوئے جو نامکمل تھے تاہم دیگر ضروری آلات کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے رابطہ کرلیا تھا۔پمز کے ایک ڈاکٹر نے

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہسپتال کے ڈاکٹر، نرس اور ملازمین سمیت 91 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اوران میں سے ایک کا انتقال ہوا۔انہوں نے بتایا کہ بیماری پھیلنے کا سبب بنے والے حالات کا تعین کرنے کیلئے تحقیق کی جارہی ہے اور محققین نتائج کا جائزہ لیں گے۔ڈاکٹر کے مطابق  نیوسرجری ڈپارٹمنٹ میں 13 ڈاکٹر، 2 نرسز، پیتھالوجی میں 3 ڈاکٹروں، 13 ملازمین اور 3صفائی کا کام کرنے والے وائرس کا شکار ہوئے، اسی طرح گیسٹرو ڈپارٹمنٹ میں 2ڈاکٹر اور ایک نرس، نیورولوجی ڈپارٹمنٹ میں ایک ڈاکٹر، ریڈیالوجی میں 4 ڈاکٹر اور یورولوجی میں 3 ڈاکٹروں میں وائرس مثبت آیا۔انہوںنے کہاکہ مدر اینڈ چائد ہسپتال میں 8 ڈاکٹر متاثر ہوئے، پیڈز سرجری اور آپریشن تھیٹر میں 2 ڈاکٹر اور 9 ملازمین، انستھیزیا ڈپارٹمنٹ میں تین ملازمین، آرتھو پیڈک میں دو ڈاکٹر، جنرل میڈیسن میں 5 ڈاکٹر اور اورومیکسیلوفیشل سرجری میں ایک ڈاکٹر بیمار ہوا۔بچوں کے شعبے میں 3 ڈاکٹر، ایک ملازم اور ایک صفائی والا متاثر ہوا، کارڈیک سرجری میں ایک ملازم، جنرل سرجری میں دو ڈاکٹر، تین ڈاکٹر ایڈمن، دو ڈاکٹر اوفتھالمولوجی، ایک ملازم پیتھالوجی اور دو ڈاکٹر دیگر شعبہ جات میں متاثر ہوئے۔ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر اسفندیار خان کا کہنا تھا کہ متاثر ہونے والے اکثر افراد کورونا وارڈ کے علاوہ دیگر شعبوں میں کام کررہے تھے۔ڈاکٹر اسفندریار نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی) کو بند کردینا چاہیے اور ٹیلی میڈیسن پر توجہ دینی چاہیے۔

پولی کلینک سے ریٹائرڈ طبی ماہر ڈاکٹر چشریف استوری کا کہنا تھا کہ حکومت کوسرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز کھولنے کا نہیں سوچنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ او پی ڈیز کو اس وقت بند کردیا گیا تھا جب کیسز سیکڑوں میں تھے تاہم اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں حالات مزید واضح ہوئے ہیں۔پمز جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر منہاج سیراج نے تحقیق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہسپتال میں 91 افراد کے متاثر ہونے کی

تصدیق کی۔ انہوںنے کہاکہ متاثر ہونے والے اکثر ملازمین آئسولیشن وارڈ سے باہر کام کررہے تھے اور میں نے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد وبائی تحقیق کی ہدایت کی تاکہ ہم مزید اقدامات کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ڈاکٹر منہاج سیراج نے کہا کہ ہسپتال میں پی پی ایز کی کمی نہیں ہیں۔پمز کو این ڈی ایم اے کی جانب سے 12 وینٹی لیٹر ملے تھے جو نامکمل تھے تاہم دیگر آلات کی فراہمی کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔ڈاکٹر منہاج سیراج نے کہا کہ آئسولیشن وارٹ میں ابتدائی طور پر 8 وینٹی لیٹر تھے لیکن چند دن قبل کارڈیک آئی سی یو سے 3 وینٹی لیٹر بھی آئسولیشن وارڈ منتقل کردیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…