منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا سے نرس سمیت پیرا میڈیکس سٹاف کے دو اہلکار انتقال کرگئے

datetime 27  مئی‬‮  2020 |

کوہاٹ(این این آئی) کوہاٹ ڈویڑن میں کورونا وائرس سے پہلی مرتبہ ایک نرس سمیت پیرا میڈیکس سٹاف کے دو اہلکار انتقال کرگئے جس کے بعد ڈویڑن میں اموات کی مجموعی تعداد 16 ہوگئی۔ باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق بدھ کے روز کورونا وائرس کے مہلک مرض میں مبتلا لیاقت میموریل ہسپتال کوہاٹ کی سینئر خاتون نرس مسرت دلدار زندگی کی بازی ہار گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ تین روز سے ڈویڑنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ میں زیر علاج تھی جہاں مبینہ طور پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور وہ بدھ کے روز انتقال کرگئی۔ صوبائی نرسز ایسو سی ایشن کی جنرل سیکرٹری انور سلطانہ نے خاتون نرس کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث سینئر نرس کا انتقال ہوا۔بعدازاں ٹی ایم اے سٹاف نے مقررہ اصولوں کے مطابق متوفی نرس کو پولیس اور فوج کی نگرانی میں تجہیز و تکفین کرکے سپردخاک کردیا۔ ادھر قبائلی ضلع کرم کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صدہ میں تعینات ڈسپنسر اشرف گل بھی کورونا وائرس کا شکار ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ گیا۔ یہاں موصولہ اطلاعات کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال صدہ میں تعینات ڈسپنسر اشرف گل مبینہ طور پر کورونا سے لڑتے ہوئے خود کورونا وائرس کا شکار ہوگیا تھا جس کا چند روز قبل کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق منگل کے روز متاثرہ ڈسپنسر کو صدہ سے پشاور منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں علی زئی کے مقام پر مقامی ہسپتال میں انتقال کرگیا۔ اس طرح قبائلی ضلع کرم میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 4 ہوگئی۔ مرحوم کا تعلق صدہ سے بتایا جاتا ہے۔ضلع کوہاٹ میں کورونا وائرس سے 8، قبائلی ضلع کرم میں 4 اور ضلع کرک میں 3 مریض متاثر ہوکر ڈویڑن بھر میں اب تک کل 16 مریض انتقال کرگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…