منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خبردار!!! جہاں کورونا کیسز کم ہوئے وہاں دوسری لہر آسکتی ہے‘ڈبلیو ایچ اونے دنیا کو انتباہ جاری کر دیا

datetime 26  مئی‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کی وبا میں کمی واقع ہورہی ہے اگر وہ اس وبا کو روکنے کے اقدامات سے بہت جلد دستبردار ہوجائیں گے تو پھر انہیں وبا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ بہت سارے ممالک میں کیسز کم ہورہے ہیں تو

وسطی اور جنوبی امریکا، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری اکثر لہروں کی صورت میں آتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کورونا وائرس اس سال کے آخر میں ان جگہوں پر واپس آسکتا ہے جہاں پہلی لہر ختم ہورہی ہے۔ڈاکٹر مائیک ریان نے مزید کہا کہ اس بات کا قویٰ امکان موجود ہے کہ اگر پہلی لہر کو روکنے کے اقدامات ختم کردیے گئے تو وائرس کی شرح میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم دوسری لہر کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس سے ہمارا مطلب ہوتا ہے کہ پہلی وبائی لہر از خود جنم لیتی ہے جبکہ دوسری لہر چند مہینوں کے بعد پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیکن ہمیں اس حقیقت سے بھی واقف رہنا چاہیے کہ یہ بیماری کسی بھی وقت بڑھ سکتی ہے۔ڈاکٹر مائیک ریان نے مزید کہا کہ ہم یہ قیاس نہیں کر سکتے کہ اب مرض ختم ہورہا ہے اور یہ مسلسل ختم ہی ہوتا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یورپ اور شمالی امریکا کے ممالک کو ’صحت عامہ اور سماجی فاصلے، نگرانی سمیت جانچ کے اقدامات اور ایک جامع حکمت عملی کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وبا کم ہوتی جائے۔جہاں دنیا بھر میں کئی ممالک میں نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی کا سلسلہ جاری ہے وہیں ڈبلیو ایچ او نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاید یہ وبا پوری طرح اب کبھی ختم نہیں ہوسکے گی۔بہت سے یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں نے حالیہ ہفتوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…