منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام ،عالمی ادارہ صحت  نے جرمن جریدے کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا

datetime 11  مئی‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی )عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) نے معروف جرمن جریدے کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندا قرار دے کر مسترد کردیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ادارے نے چین کے دباؤ پر نئے کرونا وائرس سے متعلق معلومات کو چْھپایا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت ایجنسی نے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ تیدروس ادانوم غیبریوسس اور چینی صدر شی جین پنگ کے

درمیان 21 جنوری کو فون پر گفتگو سے متعلق جرمن جریدے کی رپورٹ کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ رپورٹ بے بنیاد اور نادرست ہے۔چینی صدر شی نے تیدروس سے فون پر گفتگو میں یہ کہا تھا کہ کرونا وائرس کی ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقلی سے متعلق معلومات جاری نہ کریں اور نہ اس کو عالمی وبا قرار دیں۔جریدے نے جرمنی کی غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسی بی این ڈی کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا لیکن اس ایجنسی نے خود اس حوالے سے کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا ۔جرمن جریدے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی این ڈی نے اس وَبا سے نمٹنے کے لیے چھے ہفتے کے دورانیے کا اندازہ لگایا تھا لیکن چین کی اطلاعاتی پالیسی کی وجہ سے یہ وقت ضائع ہوگیا تھا۔ڈبلیو ایچ او نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تیدروس اور چینی صدر کے درمیان کبھی فون پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نادرست رپورٹس کا مقصد ڈبلیو ایچ او اور دنیا کی توجہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں سے ہٹانا ہے۔اس نے کہا کہ چین نے تو 20 جنوری ہی کو اس امر کی تصدیق کردی تھی کہ یہ نیا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوجاتا ہے۔اس کے دو روز کے بعد ڈبلیو ایچ او کے حکام نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں یہ کہا تھا کہ چین کے شہر ووہان میں وائرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی کے شواہد ملے ہیں لیکن ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت نے 11 فروری کو کووِڈ-19 کو وبا قرار دیا تھا۔کرونا وائرس کے تعلق سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈبلیو ایچ او کے سب سے بڑے ناقد رہے ہیں، انھوں نے اس پر چین کے دباؤ کے آگے جھکنے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کو دی جانے والی امدادی رقوم بھی روک لی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…