جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

کرونا سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام ،عالمی ادارہ صحت  نے جرمن جریدے کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا

datetime 11  مئی‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جنیوا (این این آئی )عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) نے معروف جرمن جریدے کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندا قرار دے کر مسترد کردیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ادارے نے چین کے دباؤ پر نئے کرونا وائرس سے متعلق معلومات کو چْھپایا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت ایجنسی نے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ تیدروس ادانوم غیبریوسس اور چینی صدر شی جین پنگ کے

درمیان 21 جنوری کو فون پر گفتگو سے متعلق جرمن جریدے کی رپورٹ کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ رپورٹ بے بنیاد اور نادرست ہے۔چینی صدر شی نے تیدروس سے فون پر گفتگو میں یہ کہا تھا کہ کرونا وائرس کی ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقلی سے متعلق معلومات جاری نہ کریں اور نہ اس کو عالمی وبا قرار دیں۔جریدے نے جرمنی کی غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسی بی این ڈی کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا لیکن اس ایجنسی نے خود اس حوالے سے کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا ۔جرمن جریدے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی این ڈی نے اس وَبا سے نمٹنے کے لیے چھے ہفتے کے دورانیے کا اندازہ لگایا تھا لیکن چین کی اطلاعاتی پالیسی کی وجہ سے یہ وقت ضائع ہوگیا تھا۔ڈبلیو ایچ او نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تیدروس اور چینی صدر کے درمیان کبھی فون پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نادرست رپورٹس کا مقصد ڈبلیو ایچ او اور دنیا کی توجہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں سے ہٹانا ہے۔اس نے کہا کہ چین نے تو 20 جنوری ہی کو اس امر کی تصدیق کردی تھی کہ یہ نیا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوجاتا ہے۔اس کے دو روز کے بعد ڈبلیو ایچ او کے حکام نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں یہ کہا تھا کہ چین کے شہر ووہان میں وائرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی کے شواہد ملے ہیں لیکن ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت نے 11 فروری کو کووِڈ-19 کو وبا قرار دیا تھا۔کرونا وائرس کے تعلق سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈبلیو ایچ او کے سب سے بڑے ناقد رہے ہیں، انھوں نے اس پر چین کے دباؤ کے آگے جھکنے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کو دی جانے والی امدادی رقوم بھی روک لی تھیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…