جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں پھیلتے کرونا وائرس سے نجات کیلئے 300افراد سے پلازمہ کی درخواست کر دی گئی ،عطیہ کرنے کیلئے ہماری ہیلپ لائن 03332976390 پر رابطہ کریں، جن لوگوں نے پلازمہ عطیہ کیا ان سے متعلق ماہرین نے بڑی پیش گوئی بھی کر دی

datetime 10  مئی‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ماہرامراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ہمیں 300افراد کا پلازمہ درکار ہے اور عطیہ کرنے کیلئے ہماری ہیلپ لائن 03332976390 پر رابطہ کریں۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوںنے کہاکہ بہت سے لوگوں نے کئی دفعہ پلازمہ عطیہ کیا اور اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ ہیلپ لائن پر رابطہ کرکے پلازمہ عطیہ کرنے کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ کورونا وائرس انسان کو نئے طریقے سے زندگی گزارنے کا طریقہ سکھا رہا ہے۔ ماہر امراض خون کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث پھیپھڑوں کی نالیوں میں خون جم جاتا ہے اور اس سے صرف 20فیصد لوگوں کو اسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا واحد حل سماجی فاصلہ اور آئسولیشن ہے، ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ایک سال تک کورونا وائرس سے متعلق نئی چیزیں سامنے آئیں گی۔ حکومت سندھ نے تین ہسپتالوں کو کورونا مریضوں کے لیے پلازمہ جمع کرنے کی اجازت دی ہے۔کراچی کا قومی ادارہ برائے امراض خون اور سول ہسپتال جبکہ حیدرآباد کا لیاقت یونیورسٹی ہسپتال یہ کام سرانجام دے سکیں گے، کورونا سے صحتیاب مریضوں کا پلازمہ کورونا کے مریضوں کے جلد کام آسکے گا۔ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہاکہ اب جن افراد کا پلازمہ حاصل کیا گیا ہے خوش قسمتی سے وہ دوبارہ کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوئے۔سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے علاج کی غرض سے پلازمہ لگانے کے تجربے کیلئے آٹھ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں نجی و سرکاری شعبے کے ماہرین شامل ہیں۔کمیٹی میں وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق رابعہ جویریہ آغا، ڈاکٹر طاہر شمسی، ڈاکٹر شوبھا لکشمی اور ڈاکٹر خاور عباس بھی شامل ہیں۔مذکورہ کمیٹی کورونا کے مریضوں کو پلازمہ لگانے اور افادیت کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی پلازمہ کی دستیابی، افادیت اور طبی وقانونی وجوہات پر جائزہ رپورٹ بھی مرتب کریگی۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…