منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں پھیلتے کرونا وائرس سے نجات کیلئے 300افراد سے پلازمہ کی درخواست کر دی گئی ،عطیہ کرنے کیلئے ہماری ہیلپ لائن 03332976390 پر رابطہ کریں، جن لوگوں نے پلازمہ عطیہ کیا ان سے متعلق ماہرین نے بڑی پیش گوئی بھی کر دی

datetime 10  مئی‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ماہرامراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ہمیں 300افراد کا پلازمہ درکار ہے اور عطیہ کرنے کیلئے ہماری ہیلپ لائن 03332976390 پر رابطہ کریں۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوںنے کہاکہ بہت سے لوگوں نے کئی دفعہ پلازمہ عطیہ کیا اور اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ ہیلپ لائن پر رابطہ کرکے پلازمہ عطیہ کرنے کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ کورونا وائرس انسان کو نئے طریقے سے زندگی گزارنے کا طریقہ سکھا رہا ہے۔ ماہر امراض خون کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث پھیپھڑوں کی نالیوں میں خون جم جاتا ہے اور اس سے صرف 20فیصد لوگوں کو اسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا واحد حل سماجی فاصلہ اور آئسولیشن ہے، ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ایک سال تک کورونا وائرس سے متعلق نئی چیزیں سامنے آئیں گی۔ حکومت سندھ نے تین ہسپتالوں کو کورونا مریضوں کے لیے پلازمہ جمع کرنے کی اجازت دی ہے۔کراچی کا قومی ادارہ برائے امراض خون اور سول ہسپتال جبکہ حیدرآباد کا لیاقت یونیورسٹی ہسپتال یہ کام سرانجام دے سکیں گے، کورونا سے صحتیاب مریضوں کا پلازمہ کورونا کے مریضوں کے جلد کام آسکے گا۔ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہاکہ اب جن افراد کا پلازمہ حاصل کیا گیا ہے خوش قسمتی سے وہ دوبارہ کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوئے۔سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے علاج کی غرض سے پلازمہ لگانے کے تجربے کیلئے آٹھ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں نجی و سرکاری شعبے کے ماہرین شامل ہیں۔کمیٹی میں وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق رابعہ جویریہ آغا، ڈاکٹر طاہر شمسی، ڈاکٹر شوبھا لکشمی اور ڈاکٹر خاور عباس بھی شامل ہیں۔مذکورہ کمیٹی کورونا کے مریضوں کو پلازمہ لگانے اور افادیت کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی پلازمہ کی دستیابی، افادیت اور طبی وقانونی وجوہات پر جائزہ رپورٹ بھی مرتب کریگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…