منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں پھیلتے کرونا وائرس سے نجات کیلئے 300افراد سے پلازمہ کی درخواست کر دی گئی ،عطیہ کرنے کیلئے ہماری ہیلپ لائن 03332976390 پر رابطہ کریں، جن لوگوں نے پلازمہ عطیہ کیا ان سے متعلق ماہرین نے بڑی پیش گوئی بھی کر دی

datetime 10  مئی‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ماہرامراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ہمیں 300افراد کا پلازمہ درکار ہے اور عطیہ کرنے کیلئے ہماری ہیلپ لائن 03332976390 پر رابطہ کریں۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوںنے کہاکہ بہت سے لوگوں نے کئی دفعہ پلازمہ عطیہ کیا اور اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ ہیلپ لائن پر رابطہ کرکے پلازمہ عطیہ کرنے کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ کورونا وائرس انسان کو نئے طریقے سے زندگی گزارنے کا طریقہ سکھا رہا ہے۔ ماہر امراض خون کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث پھیپھڑوں کی نالیوں میں خون جم جاتا ہے اور اس سے صرف 20فیصد لوگوں کو اسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا واحد حل سماجی فاصلہ اور آئسولیشن ہے، ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ایک سال تک کورونا وائرس سے متعلق نئی چیزیں سامنے آئیں گی۔ حکومت سندھ نے تین ہسپتالوں کو کورونا مریضوں کے لیے پلازمہ جمع کرنے کی اجازت دی ہے۔کراچی کا قومی ادارہ برائے امراض خون اور سول ہسپتال جبکہ حیدرآباد کا لیاقت یونیورسٹی ہسپتال یہ کام سرانجام دے سکیں گے، کورونا سے صحتیاب مریضوں کا پلازمہ کورونا کے مریضوں کے جلد کام آسکے گا۔ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہاکہ اب جن افراد کا پلازمہ حاصل کیا گیا ہے خوش قسمتی سے وہ دوبارہ کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوئے۔سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے علاج کی غرض سے پلازمہ لگانے کے تجربے کیلئے آٹھ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں نجی و سرکاری شعبے کے ماہرین شامل ہیں۔کمیٹی میں وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق رابعہ جویریہ آغا، ڈاکٹر طاہر شمسی، ڈاکٹر شوبھا لکشمی اور ڈاکٹر خاور عباس بھی شامل ہیں۔مذکورہ کمیٹی کورونا کے مریضوں کو پلازمہ لگانے اور افادیت کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی پلازمہ کی دستیابی، افادیت اور طبی وقانونی وجوہات پر جائزہ رپورٹ بھی مرتب کریگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…