منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وبا سے طبی عملے کے متاثر ہونے کی شرح میں 75 فی صد اضافہ

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سولجرز شدید متاثر ہونے لگے ہیں، وبا سے طبی عملے کے متاثر ہونے کی شرح میں 75 فی صد اضافہ ہو گیا ۔نجی ٹی وی کے مطابق ملک میں کرونا وائرس سے برسر پیکار فرنٹ لائن پر موجود ڈاکٹرز اور طبی عملے کے ایک ہفتے میں 200 سے زائد ارکان متاثر ہو چکے ہیں۔نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق

صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو کرونا لگنے کی شرح میں 75 فی صد اضافہ ہوا ہے، وائرس سے اب تک 444 ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ متاثر ہو چکا ہے، جبکہ 10 میڈیکل ورکرز جان کی بازی ہار چکے ہیں،متاثرہ ہیلتھ پروفیشنلز میں 216 ڈاکٹرز، 67 نرسز اور 161 دیگر طبی عملے کے لوگ شامل ہیں، ان میں سے 204 گھروں پر آئیسولیشن میں ہیں جب کہ 138 مختلف ہسپتالوں میں داخل ہیں، 94 خوش نصیب وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔444 متاثرہ افراد میں سے 138 آئی سی یوز میں کام کر رہے تھے جبکہ 306 ہسپتالوں کے دوسرے وارڈز میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ بد قسمتی سے 10 ہیلتھ کیئر ورکرز اب تک کرونا کے حملے میں انتقال کر چکے ہیں، جن میں پہلی سامنے آنے والی شہادت گلگت بلتستان میں نوجوان ڈاکٹر اسامہ ریاض کی تھی۔سندھ سے ڈاکٹر عبدالقادر سومرو، اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں سینئر ڈاکٹر محمد جاوید کرونا کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے، یوں سندھ میں 3، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان، خیبر پختون خوا اور اسلام آباد میں ایک، ایک ہیلتھ کیئر ورکر کا انتقال ہو چکا ہے۔طب کے شعبے سے وابستہ ان افراد کے رابطے میں آنے والے 186 افراد کے ٹیسٹ بھی مثبت آ چکے ہیں۔ دوسری طرف وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر طفر مرزا کے مطابق حکومت صف اول پر موجود طبی عملے کے تحفظ کا پروگرام عنقریب متعارف کروائے گی اس سلسلے میں ملک میں مقامی سطح پر پرسنل پروٹیکٹو ایکوئمپنٹ تیار کیے جا رہے ہیں‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…