منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کے باعث بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہ لگنے سےپاکستان کو نئے بحران کا سامنا،یونیسیف نے شدید خطرے سے آگاہ کردیا

datetime 29  اپریل‬‮  2020 |

نیو یا رک (آن لائن )اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے نہ لگنے سے جنوبی ایشیا کو صحت کے نئے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے ‘ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ نووول کورونا وائرس کے باعث خطے میں صحت سے متعلق مشکل سے حاصل کیے گئے فوائد ختم ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں لاک ڈاؤن کے باعث معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی مہمات رک گئی ہیں اور وائرس کے خوف سے والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔یونیسف کے جنوبی ایشیائی دفتر کی ڈائریکٹر جین گو نے کہا کہ چونکہ کووڈ-19 اکثر بچوں کو شدید بیمار نہیں کررہا تو معمول کے حفاظتی ٹیکوں میں خلل سے لاکھوں بچوں کی صحت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین خطرہ ہے اور فوری ایکشن ہی کلیدی حل ہے، کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث بنگلہ دیش اور نیپال نے خسرے اور روبیلا وائرس کی مہمات جبکہ پاکستان اور افغانستان نے پولیو مہمات معطل کردی ہیں۔یونیسیف نے کہا کہ بنگلہ دیش، پاکستان اور نیپال میں ویکسین سے قابل علاج بیماریوں بشمول خسرے اور (خناق) کے پھیلاؤ وقتاً فوقتاً سامنے آئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی خطے میں لاک ڈاؤنز اور سفری پابندیوں کے باعث سپلائی چینز متاثر ہونے سے کچھ ممالک میں ویکسین کے اسٹاک بھی کم ہیں۔یونیسیف نے ایک بیان میں تجویز کی ہے کہ جہاں میں حفاظتی ٹیکوں کی مہمات معطل ہیں، وہاں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پاتے ہی حکومتوں کو حفاظتی ٹیکوں کی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی منصوبہ بندی شروع کرلینی چاہیے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ہیلتھ ورکرز حفظان صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو ویکسینز کی معطلی کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔یونیسیف کے تخمینے کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا سے قبل ہی جنوبی ایشیا کے 45 لاکھ بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے نہیں لگے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…