منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس سے کتنے ممالک میں قحط کا خطرہ؟ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ سب سے شدید بحران ہوگا، عالمی ادارہ خوراک نے سنسنی خیز بات کر دی

datetime 26  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی )خوراک کے عالمی ادارے کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے مزید تکلیف دہ اثرات ظاہر ہونے کے خدشات موجود ہیں جس کے لیے ابھی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے امریکی ٹی وی کو بتایاکہ دنیا کو آنے والے دنوں میں انسانی ہمدردی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے اور تین درجن کے لگ بھگ ملکوں میں قحط پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے شدید بحران ہوگا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بندرگاہیں بند پڑی ہیں اور رسد کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔عالمی ادارہ خوراک کے اعلیٰ عہدے دار، ڈیوڈ بیسلی نے، جو اس سے قبل ساؤتھ کرولائنا کے گورنر رہ چکے ہیں، بتایا کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں ملک کو غربت، خوراک کی قلت اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ لیکن، ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔معیشت کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سارے عوامل کو پیش نظر رکھ کر احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے اور کرونا وائرس کا پھیلاؤ بھی قابو میں رہے۔اس وقت افریقہ کے کئی ملکوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں لاکھوں پناہ گزینوں کو بھی خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارے ان کی مدد کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں ملنے والی امداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…