پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

مئی میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی، پاکستان کے شعبہ تحقیق سے منسلک معروف ڈاکٹر نے تشویشناک بات کر دی

datetime 23  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) شعبہ تحقیق سے منسلک ملک کے نامور ڈاکٹر ذ یشان قیصر نے خبر دار کیا ہے کہ اگر حکومت نے لاک ڈاؤن پر مکمل طور پر عمل درآ مد نہ کرایا تو مئی تک کورونا وائرس کے مر یضوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی، وفاق اور سندھ حکومت بہتر کام کر ر ہی ہے تاہم عوام احتیاطی تدابیر اپنا نے سے گریزاں ہیں، عوام گھروں سے باہر نہ نکلیں، اگر عوام نے گھروں سے باہر نکلنا بند کیا تو بڑی عید پر سنت ابراہمی کی ادائیگی کوکرنا بھی مشکل ہو جائے گا،

حکومت لاک ڈاؤن پر ہر صورت مکمل طور پر عمل کرائے،دوسری صورت میں کر فیو کا سہارا لینا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزصحافیوں کے ایک وفد سے غیر ر سمی گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ڈاکٹر ذ یشان قیصر کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ کورونا وائرس ایک اچھوت مر ض ہے جو کہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے لہٰذا احتیاط کر نے کے علاوہ ہمارے پاس دوسرا کو ئی اپشان نہیں ہے،الگ تلگ رہ کر ہی ہم سب کی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں، عوام کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ وہ خود باہر نکل کر صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال ر ہے ہیں۔ڈاکٹر ذ یشان قیصر نے مزید کہا کہ کسی بھی وائرس کی عمر 90سے 120 روز ہوتی ہے لہٰذا کورونا وائرس بھی 90سے 120 روز پورے لے گا،یہاں یہ بات حکومت، عوام، ہم سب کو سمجھنی ہو گی کہ اگر کورونا وائرس کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر مکمل طور پر10سے 15روز کے لیے سختی کے ساتھ لاک ڈاؤن یا کر فیو لگا د یا جائے کیوں کہ اگر آج کسی انسان میں کورونا وائرس کی تصد یق ہوتی ہے تو اس کے 90یا120 روز آج ہی سے شروع ہوں گے، اسی لیے دنیا کے کئی ممالک نے سخت ترین لاک ڈاؤن کیا تاکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے لیکن ہمارے یہاں لاک ڈاؤن تو کیا گیا جو پرقرار ہے مگر عمل حکومت عمل درآ مد کرانے میں ناکام نظر آ تی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ذ یشان قیصر کا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو ا ہے جس کا نقصان کورونا وائرس اور فائدہ عوام کو ہوگا، گر می کی شدت کے باعث کورونا وائرس کے پھیلنے میں کمی واقع ہو گی لیکن عوام کو پھر بھی گھروں میں ر ہنا ہوگا۔ ڈاکٹر ذ یشان قیصر نے عوام سے اپیل کی کہ کپڑے کے بجائے ڈسپوزیبل ماسک کا استعمال کر یں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…