منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا کسی لیبارٹری میں تیار ہوا یا نہیں ؟  عالمی ادارہ صحت کی ایک بار پھر وضاحت 

datetime 21  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن( آن لائن )امریکی حکومت کی جانب سے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کیے جانے کے خدشات کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اس بات کے تاحال شواہد نہیں ملے کہ کورونا وائرس کسی لیبارٹری میں تیار ہوا۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مذکورہ وضاحت ایک ایسے وقت مین آئی ہے کہ جب کہ گزشتہ ہفتے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی حکومت کی ہدایت پر امریکی خفیہ اداروں نے

کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے معاملے کی تفتیش شروع کردی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خارجہ سیکریٹری مائیک پومپیو کی جانب سے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے جانے کے بعد امریکا نے معاملے کی تفتیش کا آغاز کردیا۔رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر امریکی حکومتی و خفیہ اداروں کے عہدیداروں کو یقین ہے کہ کورونا کو لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا، تاہم اس باوجود امریکی حکومت نے خفیہ اداروں کی مدد سے اس بات کی تفتیش شروع کردی ہے کہ کیا واقعی کورونا چین کسی لیبارٹری میں تیار ہوا۔ایسی رپورٹس سامنے آنے کے بعد چینی حکومت نے ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارہ صحت بھی کہہ چکا ہے کہ کورونا کو کسی لیبارٹری میں بنائے جانے کے ثبوت نہیں۔تاہم اس باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ چین نے واقعی کورونا لیبارٹری میں تیار کرکے پھیلایا تو اسے نتائج کو بھگتا پڑے گا اور اگر یہ سب کچھ غلطی سے ہوا ہے تو غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔اسی معاملے پر چین کے وائرسز پر تحقیقات کرنے والے عالمی سطح کے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی (ڈبلیو آئی وی) کے سربراہ نے بھی کہا تھا کہ کورونا وائرس کو ان کے ادارے کی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا۔گزشتہ ہفتے ہی ووہان انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کا ادارہ کورونا جیسے دیگر وائرسز پر تحقیق کرتا ہے، تاہم اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ کورونا کو ان کی لیبارٹری میں بنایا گیا۔انہوں نے کورونا کو اپنے ادارے کی لیبارٹری میں تیار کرنے کے الزامات کو مسترد کیا تھا اور اب عالمی ادارہ صحت نے بھی کہا ہے کہ

اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ کورونا کو لیبارٹری میں بنایا گیا۔ عالمی ادارہ صحت کی میڈیا ترجمان نے جنیوا میں بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ کورونا وائرس کو کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔عالمی ادارہ صحت کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اب تک سامنے آنے والی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس گزشتہ سال چین سے ہی چمگادڑوں سے انسانوں میں پھیلا اور اب تک

اس کے شواہد نہیں ہیں کہ وبا کسی لیبارٹری میں تیار کی گئی۔ترجمان فدیلا چیب کا کہنا تھا کہ اب تک کے سامنے آنے والے اور دستیاب شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس جانوروں سے ہی پھیلا۔ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ ابھی تک اس کے بات کے بھی شواہد نہیں ملے کہ کس طرح کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا، تاہم یہ واضح ہے کہ وائرس جانوروں سے ہی شروع ہوا اور جانوروں نے

ہی اسے انسانوں میں منتقل کرنے کرنے میں کردار ادا کیا۔خیال رہے کہ چند تحقیقات میں یہ دعویٰ کیا جا چکا ہے کہ کورونا وائرس ووہان شہر کی گوشت مارکیٹ سے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا، مذکورہ مارکیٹ میں چمگادڑوں، سانپوِں، سوؤر اور کتوں سمیت دیگر جانوروں کا گوشت دستیاب ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…