جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کے والدین پرالگ گائوں بسانے کیلئے دبائو لاڑکانہ میں ایڈز کی وبا پر عالمی ماہرین کی ڈبلیو ایچ او کو بھیجی گئی پہلی رپورٹ سامنے آگئی

datetime 14  دسمبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)ایچ آئی وی ایڈز کے باعث قبل از وقت موت کے خطرے سے زیادہ مہلک ایچ آئی وی سے ہونے والی رسوائی ہے جولوگوں کو مار رہی ہے۔ایچ آئی وی کے بدنما داغ کے ساتھ زندگی گزارنا سب سے زیادہ تکلیف دہ شے ہے۔ رتوڈیرو میں جہاں سیکڑوں بچے اپنی کسی غلطی یا کوتاہی کے بغیر اس لاعلاج بیماری کا شکار ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں نے متاثرہ خاندان سے متنفر اور خاموش سماجی

بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کے عزیز و اقارب بھی ان کے خلاف گروہ بندی کررہے ہیں۔لوگوں کا مطالبہ ہے کہ وہ یا تو اپنے آبائی علاقوں میں چلے جائیں یا پھر سماجی بائیکاٹ کا سامنا کریں۔ رتو ڈیرو سے 6 کلومیٹر دور واقع سبحانی خان شیر کے 30 متاثرہ خاندانوں سے 6 ماہ سے اچھوتوں جیسا طرزعمل اختیار کیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ وبا کے دوران ان خاندانوں کے 32 بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔متاثرہ بچوں کے والدین پرگائوں چھوڑنے کے لیے مسلسل دبائو ہے تاکہ علاقہ کے دوسرے بچے صحت مند رہ سکیں۔ سبحانی خان شیر کے ایک 32 سالہ پولیس اہلکار نے انکشاف کیا کہ ایچ آئی وی وائرس کے شکاربچوں کے والدین کو گائوں چھوڑنے اور اپنا الگ گائوں بسانے کے لیے مسلسل دبائوہے جب کہ کچھ خاندان ہجرت بھی کرگئے ہیں۔ایک اورمتاثرہ والد دل مراد گھنگرو نے بتایاکہ ہمارے بچے معصوم اور اس سماجی خلا سے انجان ہیں۔ ان بچوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹر عمران اکبر اربانی نے بتایا کہ رویئے پر متاثرہ خاندانوں نے آپسی میل جول بنا لیا ہے۔دوسری جانب سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن نے کہا کہ ایچ آئی وی متاثرین سے نفرت کی روک تھام کے لئے ہم علما کی خدمات لے رہے ہیں۔ تاہم سماجی روایات ہماری مہم سے زیادہ مضبوط ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…