جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈینگی وائرس کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار دریافت

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی)دنیا بھر میں ہونے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھروں پر حملہ کرنے والے بیکٹیریا کی مدد حاصل کرنے سے ڈینگی بخار کے کیسز میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔وولباکیا بیکٹیریا ان کیڑوں کو مارنے کے بجائے ان کے لیے وائرس پھیلانا مشکل بنا دیتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق محققین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج بہت اہم ہیں اور فیلڈ میں کیے جانے والے تجربات میں کیسز میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔

ڈینگی کنٹرول کرنے کے نئے طریقوں کی فوری ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ 50 برسوں میں ڈینگی کے کیسز میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔اس کی علامات ہر شخص میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں انفیکشن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ کچھ لوگوں میں نزلہ و زکام جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔کچھ لوگ تو ڈینگی سے ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پٹھوں اور ہڈیوں میں سخت درد کا سبب بنتا ہے۔ورلڈ موسکیٹو پروگرام کے پروفیسر کیمرون سِمنزنے کہاکہ یہ ملیریا جتنی ہلاکتوں کا سبب تو نہیں بنتا مگر یہ بے تحاشہ بیماری پھیلاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔دنیا بھر میں کئی تجربات جاری ہیں۔ ان میں سے ایک کے نتائج تحقیقی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئے ہیں اور سائنسدان امریکن سوسائٹی آف ٹروپیکل میڈیسن اینڈ ہائیجین کی سالانہ میٹنگ میں دیگر ڈیٹا پر بحث کر رہے ہیں۔برازیل کی اوسوالڈو فاونڈیشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لوسیناو موریرا نے کہاکہ ہم نے جن علاقوں میں بیکٹیریا والے مچھر چھوڑے ہیں وہاں چکن گنیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد اس علاقوں کی نسبت 70 فیصد کم ہوئی ہے جہاں وائرس زدہ مچھروں کو نہیں چھوڑا گیا۔امریکن سوسائٹی فار ٹراپیکل میڈیسن اورہائیجین کے صدر ڈاکٹر چینڈی جان نے کہاکہ جب ڈینگی وائرس کو روکنا مشکل ہو رہا ہے تو ایسے حالات میں یہ ایک بہت عمدہ کام ہے۔مگر ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طریقہ کی کامیابی کا انحصار جدید سائنس اور لوگوں کی بھرپور شمولیت پر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…