پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ڈینگی وائرس کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار دریافت

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی)دنیا بھر میں ہونے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھروں پر حملہ کرنے والے بیکٹیریا کی مدد حاصل کرنے سے ڈینگی بخار کے کیسز میں بڑی حد تک کمی آئی ہے۔وولباکیا بیکٹیریا ان کیڑوں کو مارنے کے بجائے ان کے لیے وائرس پھیلانا مشکل بنا دیتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق محققین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج بہت اہم ہیں اور فیلڈ میں کیے جانے والے تجربات میں کیسز میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔

ڈینگی کنٹرول کرنے کے نئے طریقوں کی فوری ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ 50 برسوں میں ڈینگی کے کیسز میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔اس کی علامات ہر شخص میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں انفیکشن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ کچھ لوگوں میں نزلہ و زکام جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔کچھ لوگ تو ڈینگی سے ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پٹھوں اور ہڈیوں میں سخت درد کا سبب بنتا ہے۔ورلڈ موسکیٹو پروگرام کے پروفیسر کیمرون سِمنزنے کہاکہ یہ ملیریا جتنی ہلاکتوں کا سبب تو نہیں بنتا مگر یہ بے تحاشہ بیماری پھیلاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔دنیا بھر میں کئی تجربات جاری ہیں۔ ان میں سے ایک کے نتائج تحقیقی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئے ہیں اور سائنسدان امریکن سوسائٹی آف ٹروپیکل میڈیسن اینڈ ہائیجین کی سالانہ میٹنگ میں دیگر ڈیٹا پر بحث کر رہے ہیں۔برازیل کی اوسوالڈو فاونڈیشن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لوسیناو موریرا نے کہاکہ ہم نے جن علاقوں میں بیکٹیریا والے مچھر چھوڑے ہیں وہاں چکن گنیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد اس علاقوں کی نسبت 70 فیصد کم ہوئی ہے جہاں وائرس زدہ مچھروں کو نہیں چھوڑا گیا۔امریکن سوسائٹی فار ٹراپیکل میڈیسن اورہائیجین کے صدر ڈاکٹر چینڈی جان نے کہاکہ جب ڈینگی وائرس کو روکنا مشکل ہو رہا ہے تو ایسے حالات میں یہ ایک بہت عمدہ کام ہے۔مگر ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طریقہ کی کامیابی کا انحصار جدید سائنس اور لوگوں کی بھرپور شمولیت پر ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…