جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

خود پرست افراد میں ڈپریشن کا خطرہ کم ہوتا ہے یا زیادہ ؟نئی تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

ڈبلن(این این آئی)اپنی شخصیت تو ہر انسان کو پسند ہوتی ہے مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دیوانگی کی حد تک اپنے آپ سے محبت کرتے ہیں۔ایسے افراد کو خود پسند، مغرور، گھمنڈی اور نرگسیت پسند سمیت متعدد الفاظ سے پکارا جاتا ہے اور آپ کے ارگرد بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو گفتگو کے دوران ہر موضوع کو اپنی ذات کی جانب موڑ دیتے ہوں، ایسا رشتے دار جو اپنے سامنے کسی کو کچھ نہ سمجھتا ہو یا دفتری ساتھی

جو ہر وقت اپنی ہی تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہو۔مگر ایسے افراد ذہنی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور ان میں ڈپریشن اور ذہنی تنا کا امکان کم ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ شمالی آئرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔کوئنز یونیورسٹی کی تحقیق میں 700 افراد کی شخصی عادات پر ہونے والی 3 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ خود پرستی کی ایک قسم گرینڈ ڈی اوس یا اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے والے افراد میں ذہنی مزاحمت بڑھ جاتی ہے جس سے ڈپریشن کی علامات کم سامنے آتی ہیں۔تحقیق کے مطابق ایسی شخصیت رکھنے والے افراد کے اندر اپنی اہمیت کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں تنا? کی شرح بھی دیگر سے کم ہوتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ خودپرستی کی 2 جہتیں ہوتی ہیں شان و شوکت کا اظہار اور مظلومیت کا احساس۔مظلومیت کا احساس رکھنے والے خودپرست افراد دفاعی انداز رکھتے ہوئے دیگر کے رویوں کو مخالفانہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے افراد میں اپنی اہمیت کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے اور اپنی حیثیت اور اختیار کا احساس انہیں آسمان پر چڑھا دیتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ خودپرست افراد میں خطرناک رویے ظاہر ہوسکتے ہیں، اپنے بارے میں غیرحقیقی بالادستی کا نظریہ پیدا ہوسکتا ہے اور حد سے زیادہ اعتماد کے ساتھ دیگر کے لیے بہت کم ہمدردی ہوتی ہے جبکہ شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا۔تاہم انہوں نے کہا کہ نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شان و شوکت کے شائق افراد میں ذہنی مضبوطی کے مثبت عناصر جیسے اعتماد اور مقصد کا حصول وغیرہ پائے جاتے ہیں، جو انہیں ڈپریشن کی علامات سے تحفظ کے ساتھ تنائو سے بچاتے ہیں۔محققین کے مطابق اگر ایک فرد ذہنی طور پر مضبوط ہوگا تو وہ چیلنجز کو رکاوٹ سمجھنے کی بجائے انہیں قبول کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ خودپرستی کی تمام جہتیں تو اچھی نہیں مگر کچھ پہلو مثبت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…