بلند آہنگ موسیقی کانوں میں زہر گھول سکتی ہے،عالمی ادارہ صحت کی وارننگ

  بدھ‬‮ 13 فروری‬‮ 2019  |  13:00

جنیوا(این این آئی)عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری ایک بیان میں خبر دار کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون انسانی قوت سماعت کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مطابق عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اسمارٹ فون میں موجود 'ساؤنڈ' کا ضرورت سے زیادہ آواز پیدا کرنا یا زیادہ آواز میں 'ایم پی 3' ریکارڈنگ سننا صارفین کی سماعت کی قوت پرمنفی اثرات ڈال سکتی ہے۔عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے 12 سے 35 سال کی عمر کے 50 فیصد افراد یا ایک ارب


10 کروڑ لوگ زیادہ اونچی آواز یا طویل دورانیے تک اسمارٹ فون کو کانوں سے لگائے رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی قوت سماعت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ٹیڈروس اڈھانم گیبریسوس کا کہنا تھا کہ ہم اپنے تجربات کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ضرورت سے زیادہ اونچی آواز کے ساتھ اسمارٹ فون کا استعمال ان کی سماعت کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو موبائل فون پر موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس دوران وہ آواز اونچی رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں 4 کروڑ 66 لاکھ افراد قوت سماعت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان میں 4 کروڑ 40 لاکھ بچے ہیں۔ عالمی ادارے کے پاس بھی اس کے درست اعداد وشمار موجود نہیں کہ ان میں کتنے فیصد لوگ صوتی آلات کے استعمال سے قوت سماعت سے متاثر ہوئے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎