بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کیا ناشتہ نہ کرنا صحت کے لیے فائدہ مند ہے؟

datetime 1  فروری‬‮  2019 |

آسٹریلیا(مانیٹرنگ ڈیسک) ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے جسے کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہئے تاکہ موٹاپے کا شکار نہ ہوسکیں مگر اب ایک نئی تحقیق میں اس خیال کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ ماضی میں طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دن کا آغاز ناشتے سے کرنا دن بھر کھانے کی اشتہا کی روک تھام کرتا ہے۔

جس سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔ مگر برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ ‘دن کی سب سے اہم غذا’ ممکنہ طور پر جسمانی وزن کنٹرول کرنے میں لوگوں کی مدد نہیں کرسکتی۔ محققین نے دریافت کیا کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود نہیں جو اس خیال کو سپورٹ کرتا ہو ناشتہ کرنا جسمانی وزن میں کمی لاتا ہے یا ناشتہ نہ کرنا موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرتے ہیں وہ دن بھر میں زیادہ کیلوریز جزو بدن بناتے ہیں جبکہ ناشتہ نہ کرنے سے دن کے دیگر اوقات میں کھانے کی زیادہ خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ناشتہ کرنے اور صحت مند جسمانی وزن کے درمیان تعلق موجود ہے۔ مگر نئی تحقیق کے محققین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج مشاہداتی ہیں اور ممکنہ طور پر انفرادی طور پر لوگوں کے صحت مند طرز زندگی اور غذائی انتخاب کی عکاسی کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کی تحقیق میں ناشتہ کرنے والے افراد کے وزن میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں ناشتہ کرنے والے اور ناشتہ نہ کرنے والے شامل کیے گئے تھے، ان کے جسمانی وزن کا جائزہ 24 گھنٹے سے 16 ہفتوں کے دوران لیا گیا۔ محققین نے دریافت کیا کہ ناشتہ نہ کرنے والوں کا وزن دوسرے گروپ کے مقابلے میں اوسطاً کچھ کم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ناشتہ کرنے والے اور نہ کرنے والوں کے میٹابولک ریٹ میں کوئی نمایاں فرق دریافت نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…