پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

دوڑنا گھٹنوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) جاگنگ کرنا یا بھاگنا ورزش کرنے اور جسم کو فعال رکھنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ بعض طبی ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ بھاگنے کی عادت گھٹنوں کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ گھٹنوں کی تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔ حال ہی میں امریکی ماہرین نے

اس خیال کی حقیقت جاننے کے لیے ایک سروے کیا جس میں حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ اس تحقیق کے لیے ماہرین نے باقاعدگی سے جاگنگ کرنے والے 15 افراد کے خون اور گھٹنوں میں موجود سیال مادے کی جانچ کی۔ ماہرین نے یہ نمونے دو بار لیے۔ ایک اس وقت جب انہوں نے 30 منٹ تک جاگنگ کی اس کے فوری بعد ان کے جسمانی نمونے لیے گئے۔ دوسرے اس وقت جب وہ کافی دیر تک بیٹھے رہے اور انہوں نے کوئی جسمانی حرکت نہیں کی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ 30 منٹ جاگنگ کے بعد ان افراد کے گھٹنوں میں موجود سیال مادے کے مالیکیولز میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہوں گی جو گھٹنوں میں سوزش یا تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا جس نے ماہرین کو بھی حیران کردیا۔ انہوں نے دیکھا کہ 30 منٹ کی جاگنگ کے بعد گھٹنوں کی تکلیف اور سوزش کا سبب بنے والے عوامل میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین نے دیکھا کہ مستقل بیٹھے رہنے کے باعث گھٹنوں میں سوزش کا جو امکان تھا وہ بھاگنے دوڑنے کے بعد کم ہوگیا۔ تاہم ماہرین نے چھوٹے پیمانے پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مصدقہ و حتمی نتائج کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر، ہر عمر اور ہر عادات کے افراد کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں انہیں علم نہیں کہ مستقل دوڑنے والے افراد جیسے میراتھن کے کھلاڑیوں پر بھی یہی نتائج مرتب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ تحقیق میں کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا۔ ماہرین اس امر کے متعلق بھی اندھیرے میں ہیں کہ گھٹنوں کے مختلف امراض اور مسائل کا شکار افراد اس طریقے سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں یا انہیں مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…