بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

’مونا لیزا‘ کی تخلیق آنکھوں کی بیماری کا کرشمہ؟

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسانی جسم کی بات کی جائے تو اس میں آنکھوں کو بہت اہمیت حاصل ہے، یہ نہ صرف ہماری زندگی کو روشن رکھتی ہیں بلکہ جسم کا انتہائی حساس عضو بھی ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ اسمارٹ اسکرینز کے کثیر استعمال کی وجہ سے آنکھوں کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں بینائی کمزور ہونا، آنکھوں کی سوزش، بھینگا پن، موتیا اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

جدید دور میں تحقیق کے میدان میں بھی آنکھوں سے متعلق نت نئے انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں آنکھوں کا ایک نایاب مرض سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے ایک آنکھ اپنے بصری محور (Visual Axis) سے باہر آجاتی ہے، یہ بھینگا پن کی ایک قسم ہے۔ اس تحقیق کی حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مرض تقریباً 500 سال پرانا ہے اور اس کا تعلق دنیا کی نایاب ترین تصویر ’مونا لیزا ‘ کے نامور مصور لیونارڈو ڈاونچی سے ہے۔ اکثر طور پر سمجھا جاتا ہے کہ چیزوں میں خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کا کردار اہم ہوتا ہے، تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی اب تک کی سب سے نایاب پینٹنگ آنکھوں کی بیماری کے باعث ہی اتنی خوبصورتی سے تیار ہوئی۔ اس حیران کن نئی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ لیونارڈو ڈا ونچی ‘ایگزوٹروپیا’ نامی آنکھوں کی نایاب بیماری میں مبتلا تھے۔ آنکھوں کے اس مرض کی وجہ سے وہ ہموار سطح پر اشیا کے فاصلے اور گہرائی کی تصویر کشی کرتے تھے، یہی بیماری ان کی وجہ شہرت بھی بنی۔ سائنس جرنل ‘جاما اوفتھلمولوجی’ میں شائع تحقیق میں پروفیسر کرسٹوفر ٹیلر نے وضاحت کی کہ ’ لیونارڈ ڈاونچی کی پینٹنگز میں آنکھوں میں موجود فرق واضح تھا‘۔ اس تحقیق کے لیے لیونارڈو ڈاونچی کے 2 مجسموں، 2 آئل پینٹنگز اور 2 تصاویر میں نظر کی سمت کا تجزیہ کیا گیا تھا جن میں ایگزوٹروپیا نامی بیماری کے شواہد ملے جن میں ایک آنکھ اپنے مخصوص زاویے سے باہر جارہی تھی۔ اس نئی تحقیق کے محقق کرسٹوفر ٹیلر نے ہر پینٹنگ پر آنکھوں کی سمت کے جائزہ کے لیے پیوپل (Pupil)، آئرس (Iris) اور آئی لڈز (Eyelids) پر دائرے بنا کر ان کی پوزیشن کا جائزہ لیا تھا۔ دائروں سے لی گئی اس پیمائش کو جب اینگل میں تبدیل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ لیونارڈو

ڈاونچی شاہکار پینٹنگ بناتے وقت ایگزوٹروپیا نامی آنکھوں کی ایک بیماری میں مبتلا تھے، جس وجہ سے ان کی ایک آنکھ عام حالت میں اپنے محور سے منفی 10.3 ڈگری باہر تھی، لیکن جب وہ کسی چیز پر نگاہ مرکوز کرتے تھے تو آنکھ کا اینگل ٹھیک ہوجاتا تھا۔ لیونارڈو ڈا ونچی کے یہ تمام 6 شاہکار سیلف پورٹریٹ نہیں تھے لیکن انہوں نے ہی لکھا تھا کہ مصور کا ہر پورٹریٹ اس کے ظاہر کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مونا لیزا کی پینٹنگ کے خالق کی بائیں آنکھ اس نایاب

مرض سے متاثر تھی جس سے دنیا کی ایک فیصد آبادی متاثر ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ مصور کو لاحق اس بیماری کی وجہ سے وہ دنیا کو ایک الگ نظریے سے دیکھتے تھے، انہیں دیگر افراد کی بجائے ایک تھری ڈائیمینشل سطح کی جگہ ہموار کینوس دکھائی دیتا تھا، جس کی وجہ سے وہ باآسانی کینوس پر منفرد تصاویر بناتے تھے۔ خیال رہے کہ اسی طرح کی تحقیقی تکنیکوں کے ذریعے پکاسو، اڈگار ڈیگاس اور دیگر نامور مصوروں میں آنکھوں کی بیماریوں کا پتہ لگایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…