بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

اچھے اور میٹھے سیب کا انتخاب کیسے کریں؟

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ کھانے کی عادت ڈاکٹر کو دور رکھتی ہے جس کو طبی سائنس کافی حد تک درست بھی مانتی ہے۔ یہ وہ پھل ہے جو لگ بھگ سارا سال دستیاب ہوتا ہے بس قیمت کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ مگر اچھے سیب کو خریدنا اور انہیں زیادہ عرصے تک ٹھیک رکھنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔ تاہم درج ذیل ٹپس آپ کو اچھے سیب چننے اور انہیں زیادہ

عرصے تک فریش رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ میٹھے تربوز کی پہچان انتہائی آسان خریدنے سے پہلے یہ چیزیں دیکھیں ہوسکتا ہے آپ کو علم نہ ہو کہ سیب کو جب درخت سے چن لیا جاتا ہے تو بھی وہ پکنے کا عمل جاری رکھنے والا پھل ہے، خاص طور پر اگر اسے کمرے کے درجہ حرارت میں چھوڑ دیا جائے۔ تو جب بازار سے خریدنے جائیں تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہیں سے وہ گل تو نہیں رہا یعنی گہرے بھورے رنگ کے نشان تو نہیں یا بہت زیادہ نرم تو نہیں، اگر ایسا ہو تو یہ سیب پہلے ہی خراب ہوچکے ہیں اور انہیں لینے سے گریز کریں۔ اسی طرح اس پر کٹ کو دیکھیں، سیب میں اکثر چننے اور بازار تک پہنچنے کے دوران کٹ لگنے کا امکان ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں گودا اندر سے بھورا ہوجاتا ہے، ایسے کٹ لگے سیب لینے سے گریز کرنا چاہیئے، تاہم کٹ بہت چھوٹا ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح سیب کا رنگ دیکھیں، اگر وہ مکمل سرخ یا ہلکے سے اورنج رنگ کا ہو تو وہ مکمل طور پر پکا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر سیب بہت زیادہ سبز ہو تو وہ زیادہ پکا ہوا نہیں ہوتا ہے، تو یہ جان لیں جس پھل کا رنگ مکمل سرخ ہوچکا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ سورج کی روشنی جذب کرچکا ہے، جو کہ مدھم رنگ وال سیبوں کے مقابلے میں زیادہ ذائقہ دار ہوسکتا ہے۔ سیب کو لینے سے پہلے اسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان تھامے اور پھر نرمی سے دبائیں، اگر ہلکا سا دبانے سے دب نہ سکے تو وہ اچھا سیب ہے، اسی طرح سیب کے مختلف حصوں کو بھی دبا کر دیکھ لیں کہ اس کا بیشتر حصہ مستحکم ہے یا نہیں۔ اگر سیب تازہ نہیں ہو تو اس کی بو سے بھی پہچانا جاسکتا ہے، اگر اس میں سے بو ناگوار محسوس ہو تو وہ زیادہ اچھا نہیں جبکہ اچھے سیبوں سے خوشگوار مہک خارج ہوتی ہے۔

تازہ اور اچھی مچھلی کی شناخت کیسے کریں؟ زیادہ عرصے تک محفوظ رکھیں سیب کو کبھی بھی سبزیوں کے ساتھ نہیں رکھیں، اسی طرح فریج میں سیب کی زندگی بڑھ جاتی ہے، مگر ایک شاپنگ بیگ میں بند کرکے انہیں رکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ اگر سیب کو کاٹ لیا ہے اور کچھ ٹکڑے بچ رہے ہیں یا بچوں کو کھانے کے لیے دے رہے ہیں تو انہیں بھورے ہونے سے بچانے کے لیے ان پر لیموں کا عرق لگا دیں، جس سے بھورے ہونے کا عمل سست ہوجاتا ہے اور کافی دیر تک ٹھیک رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…