منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دینے والی غذائی عادات

datetime 8  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے۔ لگ بھگ ہر ایک کو ذیابیطس کے نتیجے میں جسمانی تباہی کے بارے میں معلوم ہے مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی روک تھام بالکل ممکن ہے۔ ماہرین کے بقول اگر آپ ذیابیطس کے شکار ہوجاتے ہیں ،تو اس کا مطلب یہ نہیں

کہ آپ اپنی بینائی، گردوں یا ٹانگوں سے محروم ہوجائیں گے، ایسا ہونا بہت مشکل ہوتا ہے، درحقیقت آپ ذیابیطس کے اثرات کو آگے بڑھنے سے روک سکتے ہیں، یہاں تک کہ ریورس بھی کرسکتے ہیں۔ چند آسان غذائی عادات کو اپنا ذیابیطس ٹائپ ٹو کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ذیابیطس کے نتیجے میں لاحق ہونے والی بیماریاں غذا چھوڑنے سے گریز ذیابیطس کے مریضوں کو کسی وقت کا کھانا چھوڑنا نہیں چاہئے، خاص طور پر ناشتہ ضرور کرنا چاہئے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسے مریضوں کو دن بھر مناسب وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا چاہئے۔ کھانے کے حجم کا خیال اپنی غذا کی مقدار کے حوالے سے احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، ڈاکٹر کے مشورے سے اپنی غذا کی مقدار کا تعین کریں یا چھوٹی پلیٹوں میں کھائیں۔ کھانے میں اگر ایک سے زیادہ پکوان ہیں تو انہیں الگ الگ پلیٹوں میں لیں، ایک دوسرے میں مکس نہ کریں۔ کاربوہائیڈریٹس غذا میں کاربوہائیڈریٹس کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ اجناس یا نشاستے دار غذائیں، پھل ، سبزیوں، دالوں اور کچھ دودھ سے بنی مصنوعات میں موجود جز صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ کاربوہائیڈریٹس گلوکوز کی سطح پر اثرانداز ہوتے ہیں تو ان کی مقدار کے حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ چکنائی چکنائی صحت مند غذا کا حصہ ہے مگر ذیابیطس کے مریضوں کو سچورٹیڈ فیٹس کی مقدار بہت کم رکھنی چاہئے، یہ چکنائی عام طور پر مکھن، پنیر، سرخ اور پراسیس شدہ گوشت میں ہوتی ہے۔

نمک ویسے تو بہت زیادہ نمک کھانا ہائی بلڈ پریشر کا باعث سمجھا جاتا ہے مگر یہ عادت ذیابیطس کی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے، روزانہ 6 گرام سے زیادہ نمک کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ذیابیطس کی خاموش علامات اور بچاؤ کی تدابیر مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی بھی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے صحت مند غذا کا حصہ سمجھی جاسکتی ہے۔ ہر ہفتے 2 بار مچھلی کھانا اس حوالے سے

فائدہ مند ہے مگر تلی ہوئی مچھلی کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ چینی ذیابیطس کے مریض بھی کچھ مقدار میں مٹھاس کو اپنی غذا کا حصہ بنا سکتے ہیں، مگر مقدار بہت کم ہونی چاہئے اور ایسا ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہئے، کبھی کبھار میٹھی سوغاتوں کا مزہ مریض لے سکتے ہیں اور اس کے لیے مصنوعی مٹھاس یا سویٹنر سے مدد لی جاسکتی ہے۔ مناسب مقدار میں پانی کا استعمال روزانہ آٹھ سے 10 گلاس پانی کا

استعمال ایسے مریضوں کو کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، اس مقدار میں چائے، دودھ، کافی یا زیادہ پانی والی غذائیں کو بھی شامل کرلیں۔ شوگر فری مصنوعات سے گریز ایسی غذائیں جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مخصوص لیبل کے ساتھ ہوتی ہے، ان کا مریضوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہ بلڈ گلوکوز لیول پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔ یہ مصنوعات مہنگی اور ان میں چربی اور کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔  یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…