منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور،ڈینگی کے خاتمے کیلئے پنجاب سے آنیوالے ڈاکٹر کے ساتھ وہ ہوگیا جس کا سوچابھی نہ ہوگا،افسوسناک انکشاف

datetime 26  اگست‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی)پشاورمیں ڈینگی کے خاتمے کیلئے پنجاب سے آنے والا ڈاکٹر خود بیماری کا شکار ہوگیا۔ خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے مرض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور صورت حال یہاں تک جاپہنچی ہے کہ پشاور میں ڈینگی کے خاتمے کیلئے پنجاب سے آنے والا ڈاکٹر خود مبینہ طور پر ڈینگی کا شکار ہوگیا ہے۔خیبرپختونخوا میں ڈینگی عفریت کی شکل اختیار کرگیا ہے، پشاور میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 1700 سے تجاوز کرگئی ہے،

پشاور کے علاقے تہکال میں ڈینگی کے مرض پر قابو پانے کیلئے آنے والا ڈاکٹر عابد خود ڈینگی کے مرض کا شکار ہوگیا ہے۔پنجاب ہیلتھ یونٹ کے مطابق ڈاکٹر عابد پشاور کے علاقے تہکال میں ڈینگی کے خاتمے کیلئے تعنیات ہوئے تھے لیکن خود ڈینگی کا شکار ہوگئے ، میڈیکل رپورٹس میں ڈاکٹر عابد کو ڈینگی کے مرض کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے باعث انہیں پنجاب بھجوادیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کے شب و روز ڈینگی اور ملیریا سے متاثرہ مریضوں کے درمیان گزرتے ہیں لہٰذا فرائض منصبی کی انجام دہی کے دوران ڈینگی یا ملیریا ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ دوسری جانب جڑواں شہروں کی ضلعی انتظامیہ کے موثر انتظامات نہ ہونے باعث ڈینگی کا مرض بے قابو ہوگیا‘بھارہ کہو، ترلائی، روات اور سوہان کے علاقوں سے متعدد افراد مرض میں مبتلا ہو کر ہسپتال پہنچ گئے‘ راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اور ہولی فیملی ہسپتال میں موجود ڈینگی وارڈز میں مریضوں کیلئے بیڈز کم پڑ گئے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد اور راول پنڈی میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی۔بھارہ کہو، ترلائی، روات اور سوہان سمیت وفاقی دارالحکومت کے رورل ایریاز میں 15 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں 10 افراد مرض میں مبتلا ہو کر ہسپتال لائے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب راولپنڈی میں بھی ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث مرض نے سر اٹھا لیا ہے اور متعدد افراد مرض میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ڈینگی کے کچھ مریض بینظیر بھٹو اسپتال اور ہولی فیملی اسپتال پنڈی میں بھی داخل کرائے گئے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال کی ایک نرس بھی ڈینگی وائرس سے متاثر ہو کر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…