منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

گوشت کھانے کے شوقین افراد ہوشیار باش, گوشت کی یہ قسم آپ کی موت کا سبب بن سکتی ہے

datetime 29  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سرخ گوشت (بیف )اور کیک میں موجود چکنائیاں نہ صرف صحت کے لیے مضر ہیں بلکہ امراضِ قلب اور کینسر کی وجہ بن کر وقت سے پہلے موت تک بھی لے جاسکتی ہیں۔اس بات کا انکشاف امریکہ میں کیے گئے ایک بڑے اور قابلِ عمل مطالعے میں کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑے کے گوشت اور بد احتیاطی سے تیار کردہ کیکس میں سیرشدہ چکنائیاں (سیچوریٹڈ فیٹس)اور ٹرانس فیٹ کی زائد مقدار ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم کم ہوتا ہے۔ یہ چکنائیاں، مچھلی، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں میں پائی جاتی ہیں۔
سرخ گوشت اور ڈیری مصنوعات سیرشدہ چکنائیاں اور ٹرانس فیٹس پروسیس شدہ تیل سے حاصل ہوتی ہیں۔اگر آپ مندرجہ بالا خطرناک چکنائیوں کی صرف 5فیصد مقدار کو بھی مفید چکنائیوں سے بدل لیں تو قبل از وقت موت کا خطرہ 27فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس سروے میں ایک لاکھ سے زائد مرد و خواتین کو شامل کیا گیا اور ان کا 32 سال تک مطالعہ کیا گیا۔ ہر 2یا 4سال بعد لوگوں سے چکنائی کھانے کے متعلق پوچھا گیا اور شرکا کو چکنائی کھانے کی بنیاد پر 5گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور یعنی انہیں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ چکنائیاں کھانے والے گروپوں میں رکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق 32سال کے عرصے میں 33ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔رپورٹ کے نگراں ماہر نے بتایا کہ اگر آپ سیرشدہ چکنائیوں کو بدل کر غیرسیرشدہ چکنائیاں استعمال کریں گے تو اس سے بہت مفید اثرات مرتب ہوں گے۔ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں کی خوراک میں سرخ گوشت اور کیک پیسٹری شامل تھے ان میں سیر شدہ چکنائیوں کی مقدار زیادہ تھی اور وہ جلد ہی امراض کے شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے گئے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرخ گوشت اور کیک وغیرہ سے دور رہ کر کینسراور امراضِ قلب کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…