جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

وہ فعل جو موت کے امکانات کم کرے

datetime 26  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لند ن(نیوزڈیسک) انسان ہمیشہ لمبی سے لمبی زندگی کا خواہشمند رہتاہے لیکن موت کا ایک دن مقررہے اور ایسے میں سائنسدانوں نے موت کے امکانات کو کم کرنے اور صحت مند زندگی کے آسان نسخہ کی تصدیق کردی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق یورپ میں وزرش نہ کرنے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں موٹاپے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں سے ممکنہ طور پر دوگنی ہیں،یہ نتائج 12 سال جاری رہنے والی تحقیق کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں تین لاکھ سے زیادہ افراد کا تجزیہ کیا گیا۔برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ یورپ میں ہر سال چھ لاکھ 76 ہزار افراد ورزش نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں جبکہ موٹاپے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ورزش وزن سے قطع نظرہر شخص کے لیے مفید ہے اور روزانہ 20 منٹ تیز چلنے کے صحت پر نہایت مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عموماً موٹاپے کا شکار افراد کے وزرش سے دور رہنے کی بات کی جاتی ہے لیکن دبلے افراد میں ورزش نہ کرنے کی وجہ سے بیمار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔طبی غذائیت کے امریکی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین نے 12 برس میں تین لاکھ چونتیس ہزار ایک سو اکسٹھ افراد پر نظر رکھی۔اس دوران انھوں نے ان کے ورزش کے معمولات، کمر کے حجم اور اموات کا ریکارڈ رکھا۔ایک محقق پروفیسر الف اکیلنڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جلد موت کا خطرہ ان افراد میں زیادہ پایا گیا جو ورزش نہیں کرتے تھے چاہے ان کا وزن معمول کے مطابق تھا یا وہ موٹاپے کا شکار تھے۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یورپی باشندے باقاعدگی سے ورزش کرنے لگیں تو براعظم میں شرحِ اموات میں ساڑھے سات فیصد کمی ہو سکتی ہے جبکہ موٹاپے کے خاتمے سے یہ کمی تین اعشاریہ چھ فیصد ہی ہوگی۔ناروے میں مقیم پروفیسر اکیلنڈ خود بھی ہر ہفتے پانچ گھنٹے سخت ورزش کرتے ہیں۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کے لیے روزانہ بیس منٹ کی جسمانی مشقت جیسے کہ تیز چلنا کافی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صحت کے لیے لوگ دن کے 24 گھنٹوں میں سے اتنا وقت تو نکال ہی سکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…