بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں شادی سے قبل یہ کام کرنا ہوگا، حکمران جماعت نے بڑے اقدام کا فیصلہ کر لیا

datetime 1  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایک مسودہ قانون پیش کیا جا رہا ہے جس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ شادی سے قبل بعض بیماریوں سے متعلق خون کے ٹیسٹ کرانا لازمی قرار دیا جائے۔پاکستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین طویل عرصے سے اس طرح کے قانون کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، کیوں کہ اْن کا موقف ہے کہ اس طرح بہت سے موروثی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں عموماً خاندان ہی میں شادیوں کی وجہ سے کئی موروثی بیماریاں آئندہ نسل میں منتقل ہوتی ہیں جن میں تھیلیسیمیا بھی شامل ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال ’پاکستان انسٹیٹویٹ آف میڈیکل سائنسز‘ کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اکرم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر مجوزہ بل منظور ہو گیا تو یہ اْن کے بقول یقینناً یہ ایک خوش آئندہ پیش رفت ہو گی۔’’بہت خوش آئند چیز ہے، اس کو میں سپورٹ کرتا ہوں بہت سارے ممالک میں پہل سے ہے اور اس کے بہت خاطر خواہ نتائج آئے ہیں اس سے تھیلیسیمیا کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ اگر یہ ہو جائے تو دیگر بہت سے موروثی بیماریوں کے خلاف مدد ملے گی۔‘‘مجوزہ بل کے تحت شادی سے قبل خون کے بعض ٹیسٹ لازم ہوں گے جن میں تھیلیسیما کے علاوہ ایچ آئی وی ایڈز کے ٹیسٹ بھی شامل ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس پر کیا رد عمل سامنے آتا ہے۔ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ قانون کے ممکنہ سماجی اثرات کی بنا پر بعض حلقوں کی طرف سے مخالفت ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ تھیلیسیمیا خون کی ایک خطرناک بیماری ہے، اگر والدین کے خون میں اس کے جرثومے ہوں تو یہ پیدا ہونے والے بچے میں منتقل ہو کر اسے تھیلیسیمیا کا مریض بنا سکتے ہیں۔اس مرض سے متاثرہ بچوں کو ہر ماہ میں دو مرتبہ انتقال خون کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ تھیلیسیمیا سے بچاؤ کے لیے طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کو اس ضمن میں خون کا ایک تجزیہ کروانا چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…